فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل سے تعلق رکھنے والے دو فلسطینی صہیونی جیل میں اپنی اسیری کے اٹھائیسویں سال میں داخل ہوگئے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ‘‘مرکزبرائے حقوق اسیران’’ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں اسیران زیادہ محمود غنیمات اور مصطفیٰ عامر کی عمریں پچاس سال ہوچکی ہیں اوروہ کل اٹھائیس جون کو اپنی اسیری کے ستائیس سال مکمل کرنے کے بعد اٹھائیسویں سال میں داخل ہو جائیں گے۔
دونوں کو صہیونی فوج نے 27 جون 1985ء کو حراست میں لیا تھا۔ دونوں پر یہودی آباد کاروں پر قتل کے الزامات کے تحت انہیں کئی مرتبہ عمر قید کی سزائیں عائد کی گئی تھیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسیر زیادہ نے صہیونی جیل ہی میں انٹر کی تعلیم کے بعد گریجویشن بھی کرلی ہے۔ طویل عرصہ گذر جانے کے بعد دونوں اسیران کے اہل خانہ کو ان سے ملنے کی کم ہی اجازت دی جاتی ہے۔ انسانی حقوق گروپ نے صہیونی حکومت سے مطالبہ کیا ہے وہ دونوں طویل المدتی اسیران کو رہا کرے۔ مرکز اسیران نے ایمنیسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے عالمی گروپوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی اسیران زیاد اور مصطفیٰ کی رہائی کے لیے مداخلت کریں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
