• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

القدس: اسرائیل نے مسجد اقصیٰ سے ملحقہ دینی مدرسے کی عمارت منہدم کر دی

منگل 26-06-2012
in فلسطین
0
plf masjd_e_aqsa
0
SHARES
0
VIEWS

قابض اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کے لیے اس کے آس پاس کے مقامات میں مسماریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ قبلہ اول کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم‘‘اقصیٰ فاؤنڈیشن’’ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ

قابض صہیونی حکام نے مسجد اقصیٰ سے ملحقہ ایک قدیم دینی مدرسے کی عمارت مسمار کردی ہے۔ اس عمارت میں فلسطینیوں کے بچے قرآن کریم کے حفظ سمیت دینی تعلیم حاصل کرر رہے تھے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اقصیٰ فاؤنڈیشن نے بتایا ہے کہ صہیونی حکومت نے بتدریج مسجد اقصیٰ سے ملحقہ اموی، عباس ، عثمانی حتی کے سلطان ایوبی کے دور کی تعمیر کردہ عمارات کو مسمار کرنا شروع کر رکھا ہے۔ تازہ کارروائی میں عثمانی دور میں تعمیر کردہ ایک مدرسہ مسمار کردیا گیا، جس میں فلسطینیوں کے بچے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اقصٰی فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ قبلہ اول سے ملحقہ مدرسے کے انہدام کا نوٹس بیت المقدس میں اسرائیل کی ضلعی حکومت کی جانب سے دیا گیا تھا تاہم مسماری صہیونی محکمہ آثار قدیمہ کے زیراہتمام کی گئی ہے۔ یہ محکمہ صہیونی ریاست کی جانب سے قبلہ اول کے آس پاس مقدس مقامات کو مسمار کرنے اور مسجد اقصیٰ کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی حکومت کی جانب سے جس مدرسے کو مسمار کیا گیا ہے، وہ گذشتہ پانچ سال سے صہیونی انتظامیہ کی ہٹ لسٹ پر تھا۔ منہدم شدہ مدرسے کے آس پاس کے مقامات پر صہیونی محکمہ آثار قدیمہ نے بڑے پیمانے پر کھدائیاں شروع کر رکھی تھیں، جن کا مقصد آخر کا اس مقدس مقام کو بھی مسمار کرنا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ مدرسہ مسجد اقصیٰ اور مقام براق سے صرف ایک سو میٹر کے فاصلے پر قائم تھا جسے مسجد اقصیٰ ہی کا ایک حصہ سمجھا جاتا تھا۔ منہدم مدرسہ مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے کے قریب تھا اور یہ دروازہ بھی صہیونیوں اور انتہا پسند یہودیوں کی شر پسندیوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ اسی دورازے کے قریب یہودیوں کی دیوار مبکی بھی ہے جسے ان کے ہاں مقدس مقام حاصل ہے۔ اس مقام پر صہیونی فوج نے سنہ ش1967ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ مسجد اقصیٰ کے پہلو میں کھدائیوں، مسماریوں اور توڑ پھوڑ کا سلسلہ نیا نہیں۔ اسرائیلی حکومت ایک منظم سازش کے تحت مسجد اقصیٰ کو نقصان پہنچانے کے لیے کھدائیوں اور مکانات کی مسماریوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ حال ہی میں اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کی ملحقہ عمارات کو مسمار کرکےان کی جگہ یہودیوں کے لیے ایک کنیسہ تعمیر کیا ہے، جو قبلہ اول کے خلاف ایک سنگین سازش اور مسجد اقصیٰ کے مقام پر ہیکل سلیمانی کے صہیونی مزعومہ دعوے کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا جاتا ہے۔

بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.