فلسطین کی منظم مذہبی اور سیاسی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت‘‘حماس’’ کے مرکزی رہ نما اور جماعت کے پارلیمانی بلاک اصلاح وتبدیلی کے رکن محمد الزعاریر نے کہا ہے کہ
مغربی کنارے میں حکمراں اتھارٹی کے بعض سیکیورٹی ادارے حماس اور الفتح کے درمیان مفاہمت کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے مغربی کنارے میں حماس اور دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ گرفتاریاں روز اول سے مفاہمت کی راہ میں ایک بڑا پتھر سمجھی جاتی رہی ہیں۔ کیونکہ ان کی وجہ سے قومی حکومت کے بارے میں جاری مذاکرات ہر بار تعطل کا شکار ہوئے۔
حماس رہ نما اور رکن قانون ساز کونسل محمد الزعاریر نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو مرکزا اطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ حماس اور الفتح کی مرکزی قیادت نے قاہرہ میں مصری حکومت کی وساطت سے مفاہمت کے سلسلے میں اہم پیش رفت ہوئی تھی، تاہم مغربی کنارے میں رام اللہ اتھارٹی کے زیرکمانڈ سیکیورٹی ادارے مفاہمت کے پودے کو پروان نہیں چڑھنے دے رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں حماس رہ نما نے کہا کہ مغربی کنارے میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے لیے سیکیورٹی فورسز کا اسرائیلی فوج کے ساتھ تعاون مفاہمت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ مغربی کنارے میں حماس سے تعلق کے شبے میں پورے کے پورے خاندانوں کو پابند سلاسل رکھا جا رہا ہے، جس سے شہری سراپا احتجاج ہیں۔ اس سلسلے میں حماس نے آخری حد تک ضبط اور برداشت سے کام لیا ہے، لیکن یہ گرفتاریاں جاری رہیں تو مفاہمت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ الزعاریر نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے بھی اپیل کہ وہ مغربی کنارےمیں سیاسی گرفتاریوں کا سلسلہ بند کرانے کے لیے عباس ملیشیا اور رام اللہ اتھارٹی پر دباؤ ڈالیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
