فلسطین کی آزادی کے لیے سرگرم منظم تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت ‘‘ حماس’’ کے عسکری بازو عزالدین القسام بریگیڈ نے دعویٰ کیا ہے
کہ اس کے جانثاروںنے گذشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران صہیونی تنصیبات پر کم سے کم ایک سو بیس ہاون راکٹ اور میزائل حملے کیے ہیں۔ یہ حملے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی ایک ہفتے سے جاری جارحیت کے رد عمل میں کیے گئے جن میں متعدد یہودیوں کے واصل جنہم اور زخمی ہونے کے علاوہ بھاری مالی نقصان بھی ہوا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق القسام بریگیڈ کی جانب سے جاری ایک ملٹری سرکلر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجاہدین نے اسرائیل کی تیرہ اہم تنصیبات کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ تمام راکٹ غزہ کے بالمقابل یہودی کالونیوں میں داغے گئے۔ ان میں 111 گیار میزائل اور نو ہاون طرز کے راکٹ شامل ہیں۔
دوسری جانب فلسطینی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کی پٹی میں مزاحمت کاروں اور صہیونی فوج کے درمیان فائر بندی کے لیے مصری حکومت نے کوششیں تیز کردی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مصری حکام بدھ اور منگل کی درمیانی شب کے بعد سے اسرائیلی حکام اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ خیال رہے کہ گذشتہ پیر کے روز سے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی مسلسل جارحیت کے نیتجے میں کم سے کم نو فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ غزہ اور مقبوضہ فلسطینی شہروں کی سرحدوں پر صہیونی فوج اور مزاحمت کاروں کے درمیان خون ریز جھڑپوں کے تسلسل کی اطلاعات آ رہی ہیں۔
فلسطینی مزاحمت کار گروپوں نے غزہ کی پٹی پر بے گناہ فلسطینیوں کی ہلاکت کے رد عمل میں سخت جوابی کارروائی کی ہے۔ مزاحمتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہوںنے گذشتہ دو روز کے دوران صہیونی فوج اور یہودی آباد کاروں کی بستیوں پر بھی راکٹ فائر کیے ہیں، جس کے نیتجے میں یہودیوں کا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
