اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں نشر رپورٹ کے مطابق القدس کی سنہ 1931ء میں لی گئی ایک قدیم تاریخی تصویر سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے
کہ مسجد اقصی کے صحن براق میں ایک مسجد اور مدرسے کی عمارت موجود ہے جسے بعد ازاں 1967ء میں اپنے قبضے کے بعد اسرائیل نے مسمار کردیا تھا۔
معروف اسرائیلی روزنامے ’’ھارٹز‘‘ کے مطابق یہ تصویز جرمنی کے جنگی جہاز زیبلن سے لی گئی تھی جس میں مسجد اقصی کے براق صحن میں اسلامی مدرسے کی عمارت واضح ہے۔ ماہرین کے مطابق براق صحن میں یہ مدرسہ اوراس سے متصل صلیبیوں کی شکت کے بعد بارہویں صدی میں بنایا گیا تھا۔ یہ مدرسہ صلاح الدین ایوبی کے بیٹے نور الدین علی نے تعمیر کروایا تھا۔ پندرہویں صدی کے ایک نقشے کے مطابق آٹھ سوسال قبل قدیم القدس کے مراکشی کالونی میں تعمیر کیے گئے اس مدرسے کو اسرائیل نے القدس پر قبضے کے بعد منہدم کرڈالا تھا۔ ۔
یاد رہے کہ زیبلن طیارہ جرمنی کا ایک جنگی طیارہ ہے جس سے مسجد اقصی کی یہ تصویر لی گئی ہے۔ القدس کی مراکشی کالونی میں یہ واقع یہ مدرسہ یہاں کا قدیم ترین مدرسہ شمار ہوتا تھا جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سفر معراج کی سواری براق کے ٹھہرنے کے مقام کے بالکل قریب تعمیر کیا گیا تھا۔ اس مدرسے کو افضل مدرسے کا نام دیا گیا تھا۔ عثمانی دور کے آخر میں اس مدرسے کو نادار لوگوں کی رہائش گاہ میں تبدیل کردیاگیا اور اس کے ساتھ ایک مسجد بھی تعمیر کر دی گئی۔ سنہ 1967ء میں اس مقام پر اسرائیل نے قبضہ کرلیا تھا۔ اسرائیلی قومی اکیڈمی کے سربراہ اور معروف تاریخ دان باز کیڈر اس بات اعتراف کرتے ہیں کہ صہیونی روزنامے کے مطابق براق صحن میں موجود اسلامی مدرسے کا انہدام ایک بڑا جرم تھا۔ اس مدرسے کو مسمار کرکے بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کروانے والے بادشاہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی اس مقام پرموجود تینوں نشانیوں کو ختم کر دیا گیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
