عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی زیر حراست چورانوے دنوں سے بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدی محمود السرسک کو فوری رہا کر دے۔
محمود السرسک نے تاریخ کی سب سے طویل بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ذرائع ابلاغ کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ محمود السرسک کو مسلسل بھوک ہڑتال کے دوران طبی سہولیات سے محروم رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دن بدن موت کے قریب جاتے جا رہے ہیں۔ اس غیر انسانی سلوک کا مظاہرہ کر کے اسرائیل نے ایک بار پھر عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی۔
مشرق وسطی اورافریقہ میں تنظیم کے ڈائریکپر فلپ لوتھر نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے السرسک کو جولائی 2009ء سے گرفتار کر رکھا ہے مگر اس عرصے میں اب تک اسے السرسک کے خلاف کوئی الزام عائد کرنے کی بھی فرصت نہ ملی۔ اب تین سال بعد ان کا ٹرائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
