اقوام متحدہ کی ورک اینڈ ریلیف ایجنسی (انروا) سمیت دنیا بھر کی پچاس عالمی تنظیموں نے غزہ کی پٹی کے محاصرے کو شدید کیے پانچ سال مکمل ہونے پر ایک تقریب کا اہتمام کیا
جس میں اسرائیل سے غزہ کی پٹی کا ناجائز محاصرہ کرکے انسانی حقوق کی خلاف ورزی فوری ختم کا مطالبہ کیا ۔ انروا کے کمشنر جنرل فلپو گرینڈی نے غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے فی الفور مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ محاصرہ سیاسی ناکامی کا نتیجہ ہے جس نے 16 لاکھ فلسطینیوں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ لاکھوں لوگ اس وقت غزہ میں قابل رحم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ عالمی تنظیموں کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی کے حالات انتہائی خراب ہوتے جارہے ہیں اور ہر شعبہ زندگی بحران کا شکار ہے جس سے بڑے انسانی سانحے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ گرینڈی نے کہ اس محاصرے کی وجہ سے انروا کو ساڑھے سات لاکھ مہاجرین کو مدد فراہم کرنا پڑ رہی ہے جس کی وجہ سے اس کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح اب ایجنسی کو اپنے ترقیاتی پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے دو کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے
ان کا کہنا تھا کہ اتنے برے حالات کے باوجود بھی انروا نے اپنے منصوبے بند نہیں کیے، ان کا کہنا تھا کہ سات کروڑ ڈالر کی کمی کے باعث انروا کے منصوبے شدید خطرے میں۔
غزہ میں حماس کی حکومت کے ساتھ تعلقات کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انروا لبنان، شام، غزہ، مغربی کنارے اور اردن سمیت ہر اس مقام پر کام کر رہی ہے جہاں فلسطینی مہاجرین موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں تکنیکی اور فنی مشکلات کے سلسلے میں حماس حکومت اور انروا کا باہمی تعاون جاری رہتا ہے۔ اس موقع پر فلسطین میں امور انسانی کے ڈائریکٹر ماکسویل جیرالد نے بھی غزہ کے محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غزہ میں اس وقت غربت اور بھوک انتہائی عروج پر ہے اور غزہ کا معاشرہ شدید مشکلات سے دو چار ہو چکا ہے۔ دنیا پر لازم ہے کہ اس کڑے وقت میں چھ سال سے صہیونی حکومت کے محاصرے میں گھرے اہل غزہ کو مت بھولے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
