اسرائیلی وزارت خارجہ نے یورپی ممالک بالخصوص جرمنی اور ناروے میں اسرائیل کے گرتے ہوئے تشخص کو بحال کرنے کے لیے ایک سال کے اندر بارہ ملین ڈالرز مختص کر دیے۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق یورپی ممالک میں اسرائیل کے بارے میں منفی خیالات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
صہیونی ریاست کے خلاف بڑھتی نفرت کے سبب متعدد یوری ممالک میں مغربی کنارے میں قائم یہودی ناجائز بستیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم تیزی سے جاری ہے جس سے اسرائیل کو بڑے خسارے کا سامنا ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم سے یورپی عوام کے درمیان اسرائیل اپنا جواز بھی کھوتا جا رہا ہے۔
جرمنی اور ناروے میں اسرائیل سے متعلق کیے گئے ایک سروے کے مطابق دونوں ممالک کی اکثریت نے اسرائیل کو دشمن اور امن کی راہ میں رکاوٹ ریاست شمار کیا اور اسرائیلی باشندوں کو انتہا پسند قرار دے دیا۔
اسرائیلی روزنامے ’’یدیعوت احرونوت‘‘ کے مطابق سروے کے نتائج سے اسرائیلی وزارت خارجہ کو شدید دھچکا لگا ہے جس کے بعد وزارت نے یورپ میں اپنے برے تاثر کو زائل کرنے اور تشخص کو بہتر بنانے کے لیے نئی مہم کا آغاز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
سروے کے نتائج کے مطابق ناروے میں 68 فیصد افراد نے اسرائیلیوں کو سخت مذہبی، 59 فیصد نے انتہاء پسند قرار دیا، 55 فیصد کا کہنا تھا کہ اسرائیل امن کا خواہاں نہیں۔ 43 فیصد نے فلسطین کی حمایت کی جبکہ اسرائیل کو صرف 21 فیصد شرکاء کی حمایت ملی۔
جرمنی میں کیے گئے سروے کے مطابق یہاں پر 55 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ مشرق وسطی میں بدامنی کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ 46 فیصد کے مطابق اسرائیلی جنگ جرائم کرتا ہے، 48 فیصد نے اسرائیل کو انتہاء پسند ریاست قرار دیا، 27 فیصد نے فلسطین کی تائید کی جبکہ صرف 15 فیصد افراد اسرائیل کے حق میں تھے۔ ان خوفناک اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ نے یورپی ممالک بالخصوص برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین، ہالینڈ اور اسکینڈیناویا کے ممالک میں اسرائیل کی نیک نامی کے لیے 12 ملین ڈالرز مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یورپ میں ایک اسرائیلی سفارت کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کا عالمی برادری میں فلسطینیوں کی رائے غالب ہے وہ اپنے لیے ایک آزاد فلسطینی ریاست کی تائید حاصل کرنے میں کام ہو جاتے ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب یورپی ممالک اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا سوچنے لگیں گی۔ اسی ضمن میں اسرائیلی وزیر خارجہ اویگڈور لیبرمان نے معروف شاعر اور پروفیسر نعیم عرابدی کو اوسلو میں اسرائیل کا سفیر مقر کیا ہے۔ ایک عرب مسیحی کو سفیر مقرر کرنے کا مقصد بھی ناروے میں اسرائیل کے تشخص کو بہتر کرنا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
