اسرائیل کی شدت پسند حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں پہلے سے قائم چار یہود کالونیوں میں یہودی نو آباد کاروں کے لیے ساڑھے آٹھ سو نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔
مکانات تعمیر کرنے کی یہ منظوری ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب دوسری جانب صہیونی کنیسٹ نے بعض کالونیوں میں مکانات کی تعمیر کی مخالفت بھی کی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے مغربی کنارے میں قائم یہودی کالونیوں الخلیل کی "گوش عتصیون”، بیت لحم کی "افرات”، مغربی کنارے کے شمال میں "کارنی شمرون” اور رام اللہ میں بیت ایل کالونی میں ساڑھے آٹھ سو مکانات کی تعمیر کا گرین سگنل دے دیا ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت کی تازہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کل بدھ کو صہیونی کنیسٹ کے ایک اجلاس میں مغربی کنارے کی بعض کالونیوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو آئین شکل دینے کا بل مسترد کردیا گیا تھا۔ صہیونی حکومت اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کنیسٹ میں یہودی بستیوں کےخلاف بل کی مخالفت کی اور اپنے وزراء کو ہدایت کی وہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی مخصوص اراضی پر مکانات کی تعمیر کو قانون شکل دینے کے بل کی حمایت کریں ورنہ انہیں وزارتوں کے عہدوں سےہٹا دیا جائے گا۔

