فلسطینی مہاجرین اور پناہ گزینوں کے امور کے نگراں اقوام متحدہ کے ادارے ’’اونروا‘‘ کے ڈائریکٹر رابرٹ ٹیریز نے کہا ہے کہ فلسطینی محصور شہر غزہ کی پٹی کی معاشی ناکہ بندی
کےتسلسل نے خطے کا امن خطرے میں ڈال دیا ہے۔’’یو این‘‘ اہلکار کاکہنا ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی کے باعث ’’اونروا‘‘ کو بھی اپنی سرگرمیوں میں کمی لانا پڑی ہے کیونکہ عالمی ادارے کو اسرائیل کی جانب سے امدادی سروسز کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں امدادی سرگرمیاں معطل ہونے سے سب سے زیادہ نقصان فلسطینی مہاجرین کا ہو رہا ہے، کیونکہ ان کی گذر اوقات کا واحد ذریعہ امدادی اداروں کی جانب سے فراہم کردہ امداد ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اقوام متحدہ کے اہلکار نے منگل کے روز غزہ کی پٹی میں "اونروا” کے دفتر میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی امدادی آپریشن میں سب سے بڑی مشکل اسرائیل کی جانب سے مسلط معاشی ناکہ بندی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے عائد پابندیوں کے باعث انہیں بھی غزہ کی پٹی میں نہ صرف مشکلات کا سامنا ہے بلکہ عالمی برادری اور کئی دوسری تنظیمیں بھی اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کر پا رہی ہیں۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے ڈائریکٹر "اونروا” نے کوئی ایک ماہ سے اپنے عہدے کا چارج سنھبالا ہے۔ ان سے قبل جون جینگ ریلیف ایجنسی کے سربراہ تھے، جو ایک متنازعہ شخصیت سمجھے جاتے رہے ہیں۔ ان کے دور میں ریلیف ایجنسی کرپشن اور بدعنوانی کا گڑھ بن چکی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں "یو این” عہدیدار نے کہا کہ غزہ کی پٹی پرعائد پابندیوں کے باعث ان کے پاس بجٹ کی بھی خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔ ان کے جنگی بنیادوں پر شروع کیے گئے تمام منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔ غزہ کی پٹی کو اونروا کے توسط سے کم سے 20 کروڑ25لاکھ ڈالرز کی فوری ضرورت تھی جبکہ ان کے پاس اس وقت صرف 43 ملین ڈالرز کی رقم موجود ہے جو عالمی ادارے کے تمام منصوبوں کے لیے ناکافی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر ٹیریز نے بتایا کہ "اونروا” کی جانب سے غزہ کی پٹی میں کم سے کم چھ ہزار افراد کو روزگار کی فراہمی کا منصوبہ تھا تاہم وہ اس میں بالکل ناکام رہے ہیں، کیونکہ عالمی تنظیم کو ستر فی صد بجٹ کی قلت کا سامنا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

