• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home غزہ

مغربی کنارا:اسرائیلی انتظامیہ الخلیل کے شہید کی میت غزہ بدر کر دی

جمعہ 01-06-2012
in غزہ
0
plf transferred
0
SHARES
0
VIEWS

plf transferred

فلسطینی مجاہدین کے اسرائیلی اعصاب پر طاری خوف کا یہ عالم ہے کہ قابض اسرائیلی فوج اپنے ہی ہاتھوں شہید ہونے والے مجاہدین کی قبریں بھی ان کےآبائی علاقوں میں بنانے کی اجازت دینے سے انکاری ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق قابض صہیونی فوجیوں نے جمعرات کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے ایک شہید کی میت کو اس کے ورثاء کے حوالے کرنے کے بجائے اسے غزہ کی پٹی میں لے جایا گیا ہے۔ شہداء کی قبروں اور ان کی تربت سے بھی صہیونی اس حد تک خوف زدہ ہیں کہ انہوں نےچھتیس سال قبل مرتبہ شہادت پانے والے ایک فلسطینی کو اس کے آبائی شہر الخلیل میں سپرد خاک کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی انتظامیہ نے جمعرات کے روز مختلف کارروائیوں اور فدائی حملوں میں شہید ہونے والے 91 فلسطینیوں کے جسد ہائے خاکی ان کے ورثاء کے حوالے کیے۔ ان میں سے اکثریت کا تعلق مغربی کنارے سے ہے جبکہ 12 شہداء غزہ کی پٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ شہادت کے بعد قابض صہیونی فوج نے ان کی میتیں قبضے میں لے لی تھیں۔ ان میں سے بعض کو شہید ہوئے کئی سال بیت چکے ہیں۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جمہوری محاذ برائے آزادی فلسطین نامی فلسطینی تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ الخلیل کے جس شہید کی میت کو غزہ کی پٹی بدر کیا گیا ہے وہ اس کے ایک رہ نما احمد سلمان مغنم الزغارنہ المعروف خالد ابو زیاد کی ہے۔ اس کے ورثاء اور جماعت کی قیادت الخلیل میں اس کی میت کی وصولی کی منتظر تھی لیکن صہیونی فوج نے اس کی میت کو بھی غزہ کی پٹی کی طرف لے جانے والے جسد ہائے خاکی میں شامل کردیا۔
جمہوری محاذ نے صہیونی حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کی اور کہا کہ شہید خالد ابو زیاد کی میت کو اس کےآبائی شہر کے بجائے ایک دوسرے علاقے میں منتقل کرنے صہیونی فوجیوں پر فلسطینی مجاہدین کے خوف کھل کر سامنے آگیا ہے۔ صہیونی زندہ تو کیا فلسطینی شہداء سے بھی خوف زدہ ہیں۔ خیال رہے کہ فلسطینی شہید خالد ابو زیاد اٹھارہ مئی سنہ 1976ء کو وادی اردن میں اسرائیلی فوج کے ساتھ ایک معرکے میں جام شہادت نوش کر گئے تھے، جس کے بعد قابض فوج نے اس کا جسد خاکی بھی قبضے میں لے لیا تھا۔

بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.