اسرائیلی حکومت کی جانب سے گذشتہ ماہ کے اوائل میں فلسطینی بھوک ہڑتالی اسیران کی ہڑتال ختم کرانے کے تحت معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق قابض صہیونی انتظامیہ نے معاہدے کے برعکس عمل کرتے ہوئے فلسطینی مجلس قانون ساز کے رکن ڈاکٹر سمیر القاضی کی انتظامی حراست میں توسیع کردی ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی بھوک ہڑتالی اسیران نے مصر کے کہنے پر اس لیے اسرائیلی جیلوں میں ہڑتال ختم کی تھی کہ اسرائیل انتظامی حراست میں رکھے گئے تمام قیدیوں کو رہا کرے یا کم از کم انہیں عدالتوں میں پیش کرکے ان کا قصور ثابت کرے گا۔ ابھی اس معاہدے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی کہ صہیونی حکومت نے فلسطینی اسیران کی انتظامی حراست میں یغیر کسی وجہ کے توسیع کا عمل شروع کردیا ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ڈاکٹر سمیر القاضی کا تعلق اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے پارلیمانی بلاک اصلاح وتبدیلی سے ہے اور اسرائیلی فوج نے انہیں گذشتہ دو سال سے انتظامی حراست میں رکھا ہوا ہے۔ وہ اس وقت صحرائے نقب کی جیل میں پابند سلاسل ہیں۔ پچپن سالہ ڈاکٹر سمیر القاضی کی اسیری میں مزید چا ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

