امریکا کے سب سے زیاد طاقتورقانون اور پالیسی ساز ادارے کانگریس نے فلسطینی پناہ گزینوں کی ان کے وطن واپسی کے معاملے کوا پنے ایجنڈے سے خارج کردیا ہے
جس کےبعد فلسطین اور عرب انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اردن میں قومی کمیٹی برائے دفاع انسانی حقوق نےامریکی کانگریس کے اس اقدام کو فلسطینی دشمنی اور صہیونیت نوازی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔
انسانی حقوق گروپ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی کانگریس نے محض فلسطینیوں کے حق واپسی کواپنے ایجنڈے سے خارج نہیں کیا بلکہ یہ ثابت کیاہے کہ امریکا بہادر کی تمام ہمدردیاں انتہا پسند یہودیوں اور قابض ریاست کے ساتھ ہیں۔ اس کا فلسطینیوں کی حمایت کرنے کا دعویٰ محض ڈھونگ اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی کانگریس کی جانب سے فلسطینیوں کے حق واپسی کی نفی کرتے ہوئے اسے ایجنڈے سے خارج کرکے اپنی مناقت، صہیونیت نوازی، اخلاقی گراوٹ اور مسئلہ فلسطین کےحوالے سے اپنی دشمنی واضح کر دی ہے۔ اردنی انسانی حقوق کمیٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ذریعے فلسطینی علاقوں سے نکالے گئے لاکھوں فلسطینی اپنے وطن میں دوبارہ آباد ہونےکا حق رکھتے ہیں اور انہیں یہ حق اقوام متحدہ نے بھی دے رکھا ہے۔ امریکی کانگریس کی طرف سے فلسطینیوں کے حق واپسی کی نفی کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ فلسطینیوں کے پاس اپنی کوئی اراضی نہیں لہٰذا وہ اپنے لیے آزاد ریاست کا مطالبہ بھی نہیں کرسکتے۔ فلسطینیوں کے حق واپسی سے انکار درآصل فلسطینی ریاست کی قیام کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔ بیان میں اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ مظلوم فلسطینی مہاجرین کے پارے میں

