اسرائیل کی جیل میں قید تنہائی میں ڈالے گئے ایک فلسطینی شہری ضرار ابو سیسی نے کہا ہے کہ اسرائیل جیلروں نے اس کی قید تنہائی ختم نہ کی تو وہ دوبارہ بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔
ضرار کا کہنا ہے کہ مصر کی ثالثی کے تحت فلسطینی اسیران نے بھوک ہڑتال اس لیے ختم کی تھی تاکہ اسرائیل قید تنہائی میں ڈالے تمام اسیران کی تنہائی ختم کرے گا لیکن معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے کیونکہ معاہدہ ہونے کے باوجود کئی روز سے مجھے مسلسل تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیالیس سالہ ضرار ابو سیسی نے کلب برائے اسیران فلسطین کے نمائندے سے جیل میں ملاقات کے دوران دھمکی دی کہ وہ دوبارہ بھوک پڑتال پرغور کر رہا ہے کیونکہ اسرائیلی جیل انتظامیہ نے اس کے ساتھ کیے معاہدے پرتاحال عمل درامد نہیں کیا ہے۔ انسانی حقوق کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے ضرار نے کہا کہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ آخر کیوں اس کی قید تنہائی کو ختم نہیں کیا جا رہا ہے اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز اسے تنہائی میں کیوں ڈالے ہوئے ہیں۔
فلسطینی اسیران نے کہا کہ اسرائیل نے قیدیوں کے ساتھ جب بھی کوئی معاہدہ کیا تو اس میں ضرور ڈنڈی ماری۔ باقی تمام قید تنہائی کے اسیران کی تنہائی ختم کی جا چکی ہے لیکن مجھے ابھی تک اسی حال میں رکھا گیا ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ ماہ فلسطینی اسیران نے ایک طویل بھوک ہڑتال کے دوران اسرائیلی حکام سے یہ مطالبہ تسلیم کرایا تھا کہ وہ قید تنہائی میں ڈالے گئے تمام اسیران کی تنہائی ختم کردے۔ اس کے علاوہ انتظامی حراست میں رکھے گئے تمام اسیران کو یا تو عدالتوں میں پیش کیا جائے یا انہیں رہا کیا جائے۔ اسرائیلی حکام نے اس معاہدے کے تحت نہ تو انتظامی حراست کے سزا یافتہ کسی قیدی کو رہا کیا ہے اور نہ ہی تنہائی میں ڈالے گئے اسیران کی تنہائی ختم کی گئی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

