اسرائیلی فوج نے زیرحراست فلسطینی رہ نما زھیر لبادہ کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔
زھیر لبادہ کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے کے شہرنابلس سے ہے اور انہیں دو سال قبل قابض فوج نے حراست میں لے کر جیل منتقل کردیا تھا۔ زھیر کی رہائی کا فیصلہ اس کی خرابی صحت کی بناء پر والد کی جانب سے دی گئی درخواست پر کیا گیا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسیر رہ نما زھیر لبادہ کے بیٹے رشید لبادہ نے میڈیا کو بتایا کہ اس کے والد کو بدھ کے روز مغربی کنارے کے شمال میں جنین شہر کی سالم فوجی عددالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر اسرائیلی فوجی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسیر زھیر کو خرابی صحت کی وجہ سے رہا کرنےکی سفارش کی جاتی ہے، جس پر عدالت نے آج جمعرات کو انہیں ضمانت پرفوری طورپر رہا کرنے کا حکم دیا۔
خیال رہے کہ اسیررہ نما زھیر لبادہ گذشتہ کئی ماہ سے کینسر، پھیپھڑوں اور جگر کے کئی امراض میں مبتلا تھے جس کے باعث انہیں اکثر غشی کے دورے بھی پڑتے رہےہیں۔ تین ماہ قبل انہیں رملہ جیل کی اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں کی نسخے کے مطابق انتظامیہ نے انہیں دوا اور سکون کی فراہمی میں تساہل برتا جس کے نتیجے میں اسیر کی حالت مزید بگڑتی چلی گئی۔ بعد ازاں انہیں اسرائیل کے "ہاروفیہ” اسپتال میں بھی علاج کے لیے داخل کیا گیا تھا، لیکن وہ صحت مند نہیں ہوسکے۔ اس پر ان کے والد نے اپنے اسیر بیٹے کی رہائی کے لیے درخواست دی جسے منظور کر لیا گیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

