اسرائیل میں سرگرم ایک صہیونی تنظیم کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق القدس میں بسنے والے چھیالیس فیصد افراد اسرائیلی حکومت کی امتیازی پالیسیوں کے سبب غریب سے غریب ترہوتے جارہے ہیں۔
اس بابرکت شہر میں بسنے والے عرب شہریوں کا چھیاسی فیصد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔ ’’شہری کے حقوق‘‘ نامی اسرائیلی تنظیم کے مطابق القدس کے مشرقی اورمغربی حصوں میں بسنے والے اہالیان القدس کی تعداد تین لاکھ 60 ہزار ہوچکی ہے۔ اسرائیلی حکومتیں 38 فیصد اہالیان القدس کی مسائل سے مسلسل اغماض برت رہی ہے جن کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔
پیر کے روز القدس میں بڑھتی غربت پر شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ القدس میں بسنے والے 86 فیصد فلسطینی خط غربت سے نیچے دھکیل دیے گئے ہیں۔ غربت کے اسباب بیان کرتے ہوئے تنظیم نے بتایا کہ اسرائیلی حکومتیں مسلسل فلسطینی شہریوں کے مسائل کے حل سے منہ موڑے ہوئے ہے۔ صہیونی امتیازی پالیسیوں کے سبب عرب فلسطینی غربت کے گہرے گڑھے میں گرتے جارہے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

