اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی اور فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پراقوام متحدہ نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دفترمیں انسانی حقوق سے متعلق امور کی نگران مسز کیھترین براگ کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی کے سلسلے میں ریاستی مشینر کا بے دریغ استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیلی اقدامات سے مثاثرہ شہریوں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اقوام متحدہ کی اہلکار نے کہا کہ اسرائیلی حکومت مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے قانونی طورپر تعمیر کردہ مکانات کو بھی مسمار کرکے انہیں علاقہ بدری پرمجبور کررہا ہے۔ فلسطینی جو پہلے ہی بنیادی حقوق سے محروم ہیں مکان کی چھت جیسی نعمت سے محرومی کے بعد وہ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ کیتھرین براگ کا کہنا تھا کہ سولین کے گھروں کی اس جواز کے تحت مسماری کہ ان کی تعمیر غیر قانونی ہے بذات خود ایک غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام ہے۔ اسرائیل کو اپنی اس پالیسی کو ختم کرنا ہوگا۔ پی آئی سی کے مطابق کیتھرین براگ نے جنیوا میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی باشندوں کی حالت نہایت قابل رحم ہے۔ بڑی تعداد میں فلسطینی خواتین اور بچے گذشتہ چند برسوں کے دوران گھروں کی چھتوں سے محروم کیے گئے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

