فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں "فتح” کی سلام فیاض کی سربراہی میں قائم کابینہ میں نئے شامل ہونے والے وزراء نے حلف اٹھا لیا ہے۔
دوسری جانب فلسطین کی ایک بڑی مذہبی اور سیاسی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے سلام فیاض کی نئی کابینہ کو بدعنوانوں کا ایک نیا ٹولہ قرار دیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کی ایک مرکزی رہ نما اور مجلس قانون ساز کونسل کے رکن سمیر الحلائقہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سلام فیاض کی نگرانی میں قائم کی فتح کی حکومت نے ماضی میں بھی کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیےہیں۔ کابینہ میں جو رد بدل کیا گیا اور نئے چہرے سامنے لائے گئے ہیں وہ پرانی کرپشن چھپانے اور نئی کرنے کا ایک اور راستہ ہیں۔ یہ حکومت فلسطینی سیاسی جماعتوں کے درمیان طے پائے ایک مفاہمتی معاہدے کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ دو ماہ قبل قطر میں حماس کے سیاسی شعبےکے سربراہ خالد مشعل اور صدر محمود عباس کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ وہ اب اپنی اپنی حکومتوں میں کسی قسم کا رد و بدل کرنے کے بجائے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں ایک قومی حکومت تشکیل دیں گے جس کی سربراہی براہ راست صدر محمود عباس کے پاس ہوگی۔ فتح نے اس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے کابینہ میں نئے وزراء کو شامل کیا ہے، جو قوم اور مفاہمت کے ساتھ ایک نیا فراڈ ہے۔
حماس رہ نما کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے میں سلام فیاض کی نگرانی میں قائم کرپٹ حکومت کو اعتماد کا ووٹ دینے والے اراکین اسمبلی کی نا اہل ہو چکےہیں، کیونکہ وہ دانستہ طور پر ایک ایسی حکومت کو سپورٹ کررہے ہیں جس کا اصل کام قومی دولت کی لوٹ مار کرنا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

