امریکی ٹی وی ” سی بی ایس” نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر بیت لحم اور مقبوضہ بیت المقدس سے فلسطینی عیسائیوں کے جبری انخلاء کی ایک رپورٹ تیار کی ہے
جسے وہ ٹی وی کے پروگرام "ساٹھ منٹ” میں نشرکرنا چاہتے ہیں تاہم صہیونی لابی کی جانب سے ان پریہ رپورٹ نشرنہ کرنےکے لیے سخت دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق "سی بی ایس” کے نامہ نگار پوپ سائیمون نے امریکا میں تعینات اسرائیلی سفیرکو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلی سفیر اس کی تیار کردہ رپورٹ کو نشر کرانے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور مسلسل ٹی وی انتظامیہ پر رپورٹ کو دبائے رکھنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں
ایک بیان میں امریکی صحافی کاکہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ رپورٹ کے منظر عام پرآنے کے بعد امریکی عیسائیوں اوراسرائیلی کے درمیان تعلقات ایک دم سے دھماکے کی شکل میں پھٹ پڑیں گے کیونکہ اس رپورٹ میں بیت لحم اور مقبوضہ بیت المقدس کے فلسطینی شہریوں کو اسرائیلی حکومت کی طرف سے جبری بے دخلی کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا میں تعینات اسرائیلی سفیر مائیکل اورن نہ صرف ان کی تیاری کردہ رپورٹ کو نشر کرنے سے روکنے کے لیے ٹی وی کی انتظامیہ پر اثر اندز ہو رہے ہیں بلکہ اسرائیلی سفیر کا امریکی میڈیا پردباؤ کوئی پہلی مرتبہ بھی سامنےنہیں آیا۔ یہی سفیر موصوف ماضی میں بھی امریکا میں اورکئی دوسرے ملکوں میں اپنے ملک اور حکومت کو اس طرح کی بدنامیوں سے بچانے میں پیش پیش رہے ہیں۔
مسٹر سائیمن کا کہنا تھا کہ امریکی سفیر نے خود بھی "سی بی ایس” کی انتظامیہ پردباؤ ڈالا اور صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے ذریعے بھی دباؤ ڈالا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ اس رپورٹ کو نشر کرنے سے روکیں یا اس میں ضروری تبدیلیاں لائیں اور اس کے بعد اسے نشر کریں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

