اسرائیلی حکومت آج عرب رکن کنیسٹ (پارلیمان) محمد برکہ کو عدالت میں پیش کرے گی۔ ان کا ٹرائل اس بنا پر کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے مغربی کنارے کو 48ء کے فلسطین سے الگ کرنے والی اسرائیلی نسلی دیوار کے خلاف فلسطینیوں کے ہفتہ وار احتجاجے مظاہرے میں شرکت کی تھی۔
توقع کی جارہی ہے کہ نسلی دیوار کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے والے عرب رکن پارلیمان کے خلاف اسرائیلی پولیس اور فوج کے متعدد اہلکار عدالت میں گواہی دیں گے۔ انہوں نے سنہ 2005ء میں فلسطینی گاؤں بلعین میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ایک فلسطینی شہری کو گرفتار کرنے سے روکا، جبکہ ان پر دوسرا الزام ایک انتہاء پسند یہودی پر حملے کا لگایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ حملہ سنہ جولائی 2006ء میں لبنان کےخلاف جنگ کے خلاف مظاہرے کے ایک شریک پر کیا تھا۔
آج ان کے مقدمے کی سماعت شروع ہوگی جو تین دن جاری رہے گی۔ رکن پارلیمان کا دفاع کرنے والی خاتون وکیل اورنا کوہین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی عملے کے بیانات سے ثابت ہوجائے گا کہ محمد برکہ نے قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔ بلکہ بغیر کسی وجہ کے مظاہرہ کرنے والوں پر تشدد کرنے والے سکیورٹی اہلکار قانون کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

