فلسطین کی آزادی کے لیے منظم جدو جہد میں سرگرم سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے صدر محمود عباس کے اس بیان کو یکسر مسترد کردیا ہے
جس میں انہوں نے اسرائیل کے ساتھ مغربی کنارے کے علاقوں میں سیکیورٹی تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ حماس کا کہنا ہے کہ محمود عباس اور رام اللہ اتھارٹی کا مجموعی طرزعمل فلسطینیوں کے درمیان مفاہمتی مساعی کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابوزھری نے میڈیا کوجاری ایک بیان میں صدر محمود عباس کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا ہے کہ صدر عباس کا اسرائیلی دشمن کے ساتھ فوجی تعاون جاری رکھنے کا اعلان فلسطینیوں کے ساتھ کھلی دشمنی کے مترادف ہے۔ ترجمان نے صدر محمود عباس پر زور دیا کہ وہ صہیونی دشمن کو سہولیات دینے اور قوم کا دائرہ تنگ کرنے کی پالیسی ترک کردیں۔
بیان میں کہا گیا کہ صدر محمود عباس کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون جاری رکھنا، صہیونی فوج کی مفت میں خدمت بجا لاتے ہوئے فلسطینی قوم کا ناطقہ بند کرنا، تحریک آزادی کی پیٹھ میں خنجر گھومنے کے مترادف ہے۔ فلسطین کی کوئی بھی تنظیم اور کوئی شہری اپنے ہزاروں فرزندوں کےخلاف عباس ملیشیا اور اسرائیلی فوج کے مشترکہ گینک کو برداشت نہیں کرے گی۔
ڈاکٹر ابوزھری کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کا یہ سٹیٹس اور ذمہ داری نہیں کہ وہ ایک قابض ریاست کے ساتھ مل کراپنی قوم کےخلاف جنگ چھیڑ دے۔ محمود عباس اور رام اللہ اتھارٹی کے اسرائیل نواز اقدامات مسئلہ فلسطین کے لیے اپنے اندرسنگین نوعیت کے مضمرات رکھتے ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون جاری رکھنےکا قطعاً کوئی جواز نہیں ہے۔
انہوں نے رام اللہ اتھارٹی کی طرف سے اس تاثرکی بھی سختی سے تردید کہ عباس ملیشیا اور دیگرسیکیورٹی فورسز مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کو تحفظ فراہم کررہی ہیں۔ حماس کے ترجمان نے کہا کہ مغربی کنارے میں نہتے شہریوں کےخلاف عباس ملیشیا اور اسرائیلی فوجیوں نے باریاں مقرر کر رکھی ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل سے فوجی تعاون مسئلہ فلسطین کے مفاد میں ہے اور اسے جاری رکھا جائے گا، کیونکہ فوجی تعاون سے فلسطینی علاقوں میں امن وامان کی فضاء قائم ہو ئی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

