مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948ء کے دوران اسرائیلی قبضے میں چلے گئے فلسطینی علاقوں میں قائم نمائندہ تنظیم "اسلامی تحریک” کے سربراہ شیخ رائد صلاح برطانیہ میں ایک سال کے قیام کے بعد پیر کو اپنے آبائی شہر ام الفحم میں واپس پہنچ آئے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے شیخ رائد صلاح کے بیت المقدس میں داخلے پرپابندی عائد کرتے ہوئے انہیں دھمکی دی ہے کہ اگروہ شہرمیں داخلے کی کوشش کریں گے توانہیں حراست میں لے لیا جائے گا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کے سرگرم تنظیم”عرب آرگنائزیشن برائے انسانی حقوق” کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے شیخ رائد صلاح کو ایک نیا حکم نامہ ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ چھ ماہ کے لیے بیت المقدس میں داخل نہیں ہوسکتے اور اگرانہوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے اسرائیلی فوج کی جانب سے شیخ رائد صلاح کی بیت المقدس میں داخلے پرپابندی کوغیرقانونی قراردیتے ہوئے اس کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل دانستہ طورپرفلسطینی قائدین پرپابندیاں عائد کرکے انہیں مقدس شہرکی زیارت سے محروم کرنا چاہتا ہے۔ خود شیخ رائد صلاح کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ماضی میں شیخ رائد صلاح اس طرح کی پابندیوں کا سامنا کرتے رہے ہیں تاہم انہوں نے اسرائیلی پابندیوں کو خاطرمیں نہیں لایا۔
خیال رہے کہ شیخ رائد صلاح گذشتہ برس جون میں فلسطینیوں کی دعوت پربرطانیہ کے دورے پرگئے تھے تاہم اسرائیل نواز برطانوی حکام نے انہیں جعلی مقدمات میں حراست میں لے لیا تھا۔ رہائی کے بعد برطانوی وزارت داخلہ نے انہیں فوری ملک چھوڑنے کا حکم دیا تو شیخ رائد صلاح نے لندن وزارت داخلہ کے اس حکم نامے اور اپنی بلا جواز گرفتاری کو وہاں کی ایک عدالت میں چیلنج کردیا۔ جس کے بعد وہ خود اس مقدمہ کی پیروی کرتے رہے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق لندن کورٹ آف ایمیگریشن میں دائرمقدمہ کا فیصلہ حال ہی میں شیخ رائد صلاح کےحق میں سنایا گیا۔ پچیس صفحات پرمشتمل فیصلے پرعدالت کے جج "اوکلٹن” نے اپنے ریمارکس میں لکھا کہ "شیخ رائد صلاح کی ملک بدری کا وزارت داخلہ کا فیصلہ ملکی قانون کےخلاف ہے۔ نیز وزیرداخلہ نے شیخ رائد صلاح کےخلاف کارروائی غلط معلومات کی بنیاد پرکی، جس پرعدالت انہیں تمام الزامات سے بری قراردیتی ہے”۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

