فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں کے تحفظ کے لیے تعمیر کردہ نسلی دیوار اور یہودی آباد کاری کی مخالف کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ صہیونی مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی اسلامی تاریخی شناخت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ بیت المقدس میں "جبل ابوغنیم” کی توسیع کا منصوبہ شہرکی اسلامی اور ثقافتی وتہذیبی اہمیت کے لیے نہایت تباہ کن ہے۔ اس کے علاوہ صہیونی حکومت بیت المقدس میں ایک نیا تعلیمی نیٹ ورک قائم کرنا چاہتا ہے جس کا مقصد فلسطینی بچوں کو غلط اور گمراہ کن حقائق پرمبنی نصاب پڑھانے کی سازش ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق نسلی دیوار کی مزاحمتی کمیٹی رکن شیخ عبداللہ علقم نے بیت بالعموم تمام فلسطینی شہریوں بالخصوص المقدس کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صہیونی عزام کی روک تھام کے لیے مسجد اقصیٰ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بنائیں۔ اس سلسلے میں فلسطینیوں کو اگرمسلسل ملین مارچ کی ضرورت پڑے تواس سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔
شیخ علقم کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس نہ صرف فلسطینی عاوم بلکہ عالم اسلام کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی مسجد اقصیٰ میں نمازوں کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔ قبلہ اول میں اعتکاف کریں اور قبلہ اول میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

