ماہرین زراعت اور انجینئرز فورم کا کہنا ہے کہ تنظیم زراعت کے شعبے میں اسرائیل سے تعلقات کو معمول پر لانے کے خلاف ایک توانا آواز بن کر ملک کو اس کے خطرات سے آگاہ کرتی رہے گی۔ اسرائیل کئی برسوں سے اردن کے زرعی شعبے میں قدم جمانے کی کوشش میں مصروف ہے۔
انجینئرز اور ماہرین زراعت سنڈکیٹ کے سربراہ محمود ابو غنیمہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ سنڈیکیٹ کی شعبہ زراعت میں سب سے ملکر کام کرنے کی سوچ اسرائیل سے کے ساتھ اس شعبے میں تعلقات نارمل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ چلی آ رہی ہے۔ بیان کے مطابق زراعت کا شعبہ بعض کمزور دل افراد کے اسرائیل کے ساتھ تال میل کی وجہ سے بحرانوں کی زد چلا آ رہا ہے۔
ابو غنیمہ نے بتایا کہ سنڈیکیٹ کئی برسوں سے ان خطرات سے آگاہ کرتا چلا آ رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے فورم کی نارملائزیشن مخالف کمیٹی نے متعدد پروگرام منعقد کئے، جن کا مقصد اردن کی زرعی پیدوار کی حفاظت کرنا ہے۔ اس اقدام کی وجہ سے اسرائیل کی زرعی پیدوار اور برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے۔
اس ضمن میں اردن کے عوام کا اسرائیلی مصنوعات کا عدم استعمال ہے۔ یہ کام وہ دینی اور قومی فریضہ کے طور پر انجام دے رہے ہیں کیونکہ انہیں مکمل ادراک ہے کہ اسرائیل، اردن کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اسرائیل، اردن کی اعلی پیداوار کو عالمی منڈی میں کمتر مصنوعات کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
سنڈیکیٹ کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ اردن کی زرعی پیدوار کے لئے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں۔ ان میں مشرقی یورپ، بلقان کی ریاسیں، اسکینڈینویا کے ممالک خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ جہاں اردن کی زرعی منصوعات اپنی اعلی کوالٹی اور ارزاں نرخ کے باعث اپنے لئے جگہ بنا سکتی ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

