اسرائیل کی جیل میں طویل المدتی فلسطینی اسیر اور اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” کے عسکری بازو القسام بریگیڈ کے کمانڈر عباس السید پر صہیونی گماشتوں نے قاتلانہ حملہ کیا ہے جس کے بعد اسیرکی جیل میں حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسیر پراسرائیلی فوجیوں نے سفاکانہ تشدد کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کےمطابق القسام بریگیڈ کے اسیر رہ نما عباس السید کی اہلیہ مسزاخلاص الصویص نے مغربی کنارے کے شہرطولکرم میں ایک نیوزکانفرنس بتایا کہ بدھ کے روز صہیونی فوجیوں اور تفتیش کاروں نے جیل میں عباس السید پر وحشیانہ تشدد کیا جس کے بعد وہ کئی گھنٹے تک بے ہوش رہا ہے۔ اسیر کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ عباس السید سے اس کے وکیلوں نے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے دوران اسیرن نے اپنے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کیا اور کہا کہ اسرائیلی فوجی اسے جان سے مار ڈالنا چاہتے ہیں۔
اسیر کی اہلیہ نے مزید بتایا کہ صہیونی گماشتوں نے اس کے شوہر پر تشدد کے دوران اس کے سراور سینے پر ضربیں لگائیں جس کے نتیجے میں اسے غشی کےدورے پڑتے رہے۔ وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد صہیونی درندے اسے ٹھنڈے فرش پر پھیک کرچلے گئے۔
بعد ازاں مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار سے ٹیلیفون پربات کرتے ہوئے اسیر کی اہلیہ ام عبداللہ اخلاص الصویص نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے عباس السید کو جان سے مار ڈالنے کی پوری کوشش کی ہے تاہم اللہ کا فضل وکرم ہے کہ وہ ابھی زندہ ہیں تاہم ان کی حالت نہایت تشویشناک ہے۔
انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ ظلم کے شکار اس کے شوہر کو صہیونی بھیڑیوں کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے عباس السید پر وحشیانہ تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسیر کی فوری رہائی اور طبی معائنے کا مطالبہ کیا ہے انسانی حقوق کے ایک رضاکار ریاض الاشقر نے تصدیق کی گذشتہ ہفتے کے دوران صہیونی تفتیش کاروں نے جیل مین عباس السید پر تین مرتبہ وحشیانہ تشدد کیا ہے جس کےنتیجے میںاس کی حالت نہایت تشویشناک ہو گئی ہے۔
ریاض الاشقرنے بتایا کہ عباس السید کواسرائیلی جیل انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کرائے لیکن عباس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد صہیونی فوج نے ان پر باربار تشدد کیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

