فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کی حکومت کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کھال اتار دینے والی معاشی پابندیوں کے باوجود ان کی حکومت نے کسی سے قرض نہیں لیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کم پر گذٓرا کر سکتے ہیں لیکن کسی سے پیسے لے کرقوم کے حقوق کا سودا نہیں کریںگے۔
مرکز اطلاعات فلسطین غزہ کی پٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے شہر میں سرکاری ملازمین کے تنخواہوں اور دیگر اخراجات کے لیے عرب اور اسلامی ممالک سے فنڈز وصول کیے ہیں تاہم جس ملک سے بھی رقم لی گئی اس کی کوئی شرط نہیں رکھی گئی۔ کیونکہ ہم پیسے کی لالچ میں بلیک میل نہیں ہونا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا، اسرائیل اوران کے حامی ممالک کی جانب سے اہالیان غزہ کو بھوک سے مارنے کی پوری سازش کی گئی تاہم عرب اور اسلامی ممالک کی جانب سے محصورین غزہ کی غیرمشروط مدد کی گئی۔
اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ جس سمت سے بھی انہیں فنڈز کی آفر ہوئی توانہوں نے سب سے پہلے یہ واضح کیا کہ وہ فنڈغیرمشروط ہو گا اور اگر کسی نے کوئی شرط بھی عائد کرنے کی کوشش کی توہم نے اسی وقت وہ تمام فنڈز مسترد کر دیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی قوم کہ عزت وآبرو، ان کی آزادی، ان کے حقوق اور شہداء کا خون دنیا و ما فیہا سے بدرجہا محترم اور مقدس ہیں۔ ان کی حکومت پیسوں کےعوض شہداء کے خون کی سودے بازی نہیں کرے گی۔
اسماعیل ھنیہ نے بتایا کہ وہ ماہانہ 42 ہزار سرکاری ملازمین کو بلا استثنیٰ 30ملین ڈالرز کی رقم ان کی تنخواہوں کی مد میں ادا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سابقہ حکومت کی جانب سے قومی خزانے پر بھاری بوجھ ڈالا گیا۔ جب انہوں نے حکومت سنھبالیتو غزہ کے ذمہ ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالرز قرض تھا اورآج ایک ڈالر قرض بھی نہیں بچا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

