فلسطین پر قابض انتہا پسند یہودیوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں تین روزہ محافل موسیقی کا آغاز کر دیا ہے۔ آج منگل سے شروع ہونے والی موسیقی کی تقریبات رات کے اوقات میں ہوں گی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے سرگرم عالمی تنظیم”الاقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ” نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ انتہا یہودی تنظیموں نے تین روزہ محافل موسیقی کے لیے مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم مقامات کا انتخاب کیا ہے۔ اس کے علاوہ بے حیائی اور عریانی کی نمائندہ یہ شیطانی تقریبا مسجد اقصیٰ سے ملحقہ بیت المقدس کی دیواروں کے آس پاس منعقد کی جائیں گی۔
اقصٰی فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس میں انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے اس طرح کی تقریبات منعقد کرنا نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہے بلکہ یہ خود یہودیوں کے مذہبی نقطہ نظرسے غلط اقدام ہے۔ تاہم چونکہ صہیونی انتہا پسندوں کا مقصد مقدس شہرکی حرمت پامال کرنے کی سازش کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ایسا کوئی بھی اقدام کرنے سے گریز نہیں کرتے جو قبلہ اول کی توہین اور اس کے تقدس کو پامال کرنے کے ساتھ ساتھ یہودیوں کو بیت المقدس میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع فراہم کرے۔
رپورٹ کے مطابق اس طرح کی تقریبات کے انعقاد کا دوسرا مطلب بیت المقدس میں قابض یہودیوں کو مالی معاونت فراہم کرنا اور انہیں یہ یقین دلانا ہے وہ تنہا نہیں بلکہ یہودیوں کے تمام لبرل اور مذہبی حلقے ان کے ساتھ ہیں۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیل کی بیت المقدس کی ضلعی حکومت کی جانب سے”القدس کے قدیم نغمے” کے عنوان سے تین روزہ محافل موسقی کا اعلان کیا تھا۔ یہ محافل آج منگل سے رات کے اوقات میں منعقد کی جائیں گی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

