فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہرالخلیل میں اسرائیلی فوج نے گذشتہ دو روز سےرات کا کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہفتے اور اتوار اور اتوار اور پیرکی درمیانی راتوں کو اسرائیلی فوجیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مختلف مقامات پراتارا گیا ہے،
جس کے بعد انہوں نے گھرگھر تلاشی کا سلسلہ شروع کر دیا۔
عینی شاہدین نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ قابض صہیونی فوج نے الخلیل کے مشرق میں بنی نعیم کے مقام پررات گئے درجنوں فوجی کمانڈوز کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اتارا۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فوجیوں کےساتھ تفتیشی کتے بھی اتارے گئے۔ اس کے بعد صہیونی فوج نے خوانخوار کتوں کے ہمراہ بنی نعیم کےمرکزی علاقے الجلاجل اور دیگرمقامات میں ایک ایک گھرکی تلاشی لی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ صہیونی فوجیوں نے الخلیل میں وعرہ اور الصعبہ کےمقامات پر ایک سے زائد مرتبہ تلاشی لی اور شہریوں کو گھروں سے نکال کرباہرسڑکوں پر کھڑا کر دیا گیا۔
ادھر الخلیل کے شمال مغرب میں قابض صہیونی فوج نے بکریوں کے ایک باڑے میں داخل ہوکروہاں بھی تلاشی لی۔ اسرائیلی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں یہ اطلاعات ملی تھیں کہ "بیت نصیب”میں چرواہوں کے باڑوں میں خطرناک اسلحہ رکھا گیا ہے، تاہم وہاں سے کوئی چیز برآمد نہ ہونے کے بعد صہیونی فوجی مویشیوں کے لیےرکھا گیا چارہ بھی خراب کرکے چلے گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق تل رمیدہ میں قابض فوج نے تلاشی کی کارروائیوں کےدوران شہریوں کو سخت سردی کے باوجو ننگے پاؤں سڑکوں پرکھڑا کیے رکھا اور خود کئی گھنٹے تک گھروں کی تلاشی لیتے رہے۔ شہریوں نے صہیونی فوج کی اس بدسلوکی پر احتجاج کیا قابض فوج نے کئی شہریوں کو وحشیانہ تشدد کا بھی نشانہ بنایا۔ گھروں میں نام نہاد تلاشی کی آڑ میں نقدی، زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء بھی قبضے میں لے گئیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

