مقبوضہ بیت المقدس سے یکجہتی اور اس کی آزادی کے لیے ملین مارچ منظم کرنے والی عالمی تنظیم کے رکن نزاھربیراوی نے کہا ہے کہ بیت المقدس کی طرف عالمی ملین مارچ کی قیادت دنیا بھر کی 30 ممالک کے 40 اہم رہ نما کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کی طرف ملین مارچ منعقد کرانے کے لیے تیس ممالک کی الگ الگ تیس کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں جو مارچ کی جنگی بنیادوں پر تیاریوں میں مصروف ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق قاہرہ میں القدس ملین مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ انقلاب سے گذرنے والی اقوام اگر چاہیں تو بیت المقدس کو صہیونی قبضے سے آزاد کرا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی غاصبانہ قبضے کا دنیا بھرمیں احتجاجی مظاہرے منظم کر کے کیا جا سکتا ہے۔ بیت المقدس کی جانب ہمارا ملین مارچ کوئی منظم فوج نہیں ہے جو اسلحہ اور ہتھیار اٹھا کر بیت المقدس کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ہمارا مقصد مسلمانوں کے اس اہم مذہبی مرکز کی آزادی کے لیے پرامن احتجاج منظم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ ہم آج دنیا بھر کی اقوام کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں۔ ہماری ان کوششوں کے ضمن زندہ ضمیر رکھنے والی تمام اقوام کو فلسطینیوں کے ساتھ اپنی ہمدردی اور محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے قافلے میں شامل ہو جانا چاہیے۔
بعد ازاں مرکز اطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بیراوی نے کہا کہ عرب اور اسلامی دنیا کو یہ سمجھنا ہو گا کہ بیت المقدس سے ان کا تعلق اسی وقت ثابت ہو سکتا ہے جب وہ بیت المقدس کی آزادی کے لیے اپنے وسائل بھی صرف کریں کیونکہ جب تک ہمارے دلوں میں بیت المقدس، مسجد اقصیٰ اور مظلوم فلسطینی قوم کے لیے محبت کا جذبہ نہیں ہو گا ہم اس وقت تک بیت المقدس کو آزاد نہیں کرا سکتے۔
القدس کے لیے عالمی ملین مارچ کے شرکاء کے بارے میں پوچھےگئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کی آزادی کے لیے لوگوں میں شعورکرنے کے لیے سیکڑوں تنظیموں نے رابطہ کیا ہے، تاہم انہوں نے اپنے ساتھ اس سفرمیں کوئی 700 تنظیموں اس سفر کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی میڈیا القدس ملین مارچ کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کر رہا ہے۔ صہیونی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں کہا جا رہا یہ ملین مارچ اسرائیل کے خلاف ایک سازش ہے اور اس کا مقصد اسرائیل کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنا ہے۔ زاہد بیراوی کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد اسرائیل کے خلاف کوئی سازش نہیں بلکہ اسرائیل بذٓات ایک سازش ہے اور ہم بیت المقدس کی آزادی اور فلسطین کی خود مختاری کے لیے ایک پرامن اور آئینی جدوجہد کر رہے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

