فلسطین کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت مرکز اطلاعات فلسطین کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے ترکی کے دورے کے دوران ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کی ہے۔
ملاقات میں فلسطین کی موجودہ صورت حال بالخصوص فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کے ضمن میں ہونے والی پیش رفت اورغزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوسری جانب حماس کے وفد نے ترک وزیرخارجہ احمد داؤد اوگلو اور انٹیلی جنس چیف سے بھی ملاقات کی ہے۔
حماس کے سیاسی شعبے کے رکن عزت رشق نے مرکز اطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طیب ایردوآن کے ساتھ ملاقات کےدوران خالد مشعل نے ترکی کے فلسطینیوں کے بارے میں موقف کو سراہا بالخصوص غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے حوالے سے انقرہ کے موقف کو قابل تحسین اور دیگرممالک کے لیے مثالی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام اور حماس دونوں ترک حکومت اورعوام کی جانب سے کی جانے والی مساعی کا تہہ دل سےاحترام کرتے ہیں۔ ترکی نے ہمیشہ فلسطینیوں کی حمایت اور مدد کر کے ان کے جائز حقوق کی ہر سطح پر آواز اٹھائی ہے۔
عزت رشق کا کہنا تھا کہ ملاقات میں خالد مشعل نے فلسطین کی موجودہ صورت حال کے بارے میں تفصیل کے ساتھ ترک وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ بالخصوص فلسطینیوں کےدرمیان مفاہمت کے ضمن میں ہونے والی پیش رفت، غزہ کی پٹی پر گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج کے بلاجواز حملوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی اور اس کے شہریوں پر اس لیے گولہ باری نہیں کر رہا ہے کہ یہاں سے اسرائیلی تنصیبات پر راکٹ حملے کیے جاتے رہے ہیں بلکہ اسرائیل اپنے راکٹ شکن نظام اور دیگر اسلحے کے عملی تجربات کرنا چاہتا ہے۔ تازہ بمباری میں اسرائیل نے اینٹی راکٹ سسٹم” آئرن ڈوم” کی آزمائش کرنا تھی کہ آیا یہ سسٹم فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کی روک تھام میں کتنا موثر ثابت ہو سکتا ہے۔
اس کےعلاوہ خالد مشعل نے ترک وزیراعظم کو فلسطینی اسیران کے ساتھ اسرائیلی فوج کی بدسلوکیوں بالخصوص فلسطینی اسیران کی بھوک ہڑتالوں، مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادیوں میں توسیع، مسجد اقصیٰ پر حملے اور مغربی کنارے میں جارحیت کےبارے میں بھی آگاہ کیا۔
ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے حماس کی قیادت کو یقین دلایا کہ وہ فلسطینیوں کی ہر محاذ پر حمایت اور مدد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے معاشی پابندیاں فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ادھر حماس کے سیاسی شعبے کے وفد نے جمعہ کے روز انقرہ پہنچنے پر ترک وزیرخارجہ احمد داؤد اوگلو اور انٹیلی جنس چیف سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں فلسطین کی مجموعی صورت حال تبادلہ خیال کیا گیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

