جنوب مشرقی یورپ کے ملک قبرص نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات فلسطینیوں کے حقوق کی قیمت پر قائم نہیں کیے جائیں گے۔ عرب ممالک اور فلسطینیوں کے ساتھ قبرص اپنے تعلقات اس انداز میں آگے بڑھائے گا تاکہ اس کے ذریعے مسئلہ فلسطین کی حمایت کی جا سکے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ان خیالات کا اظہار قبرص کی خاتون وزیر خارجہ "ایراتوکوزا کوماکولیس”بیروت میں لبنانی صدر میچل سلیمان کے ساتھ خصوصی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ قبرص عالم عرب اور فلسطینیوں کے مفادات کو عزیز تر سمجھتا ہے اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کا قیام فلسطینیوں کے حقوق کی قیمت پر نہیں ہو گا۔
ایک سوال کے جواب میں قبرصی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک عالمی فورمز میں فلسطینیوں کے قومی، جمہوری،اخلاقی اور مذہبی حقوق کے حوالے سے ہمیشہ حمایت کرتا رہا ہے۔ گذشتہ برس فلسطین کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس و ثقافت و تعلیم "یونیسکو” میں رکنیت دلوانے میں بھی قبرص نے اسرائیلی ناراضگی مسترد کر دی تھی اور فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کی تھی۔
خیال رہے کہ ان دنوں اسرائیل اور قبرص کے درمیان سفارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ گذشتہ فروری کے وسط میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو قبرص کا سرکاری دورہ بھی کر چکے ہیں۔ قبرص اور تل ابیب کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد کسی اسرائیلی وزیراعظم کا یہ پہلا دورہ قبرص ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

