فلسطین کی منظم مذہبی اور سیاسی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے اسرائیل کی صحرائی جیل”نفحہ” کے اسیران پر صہیونی اسپیشل فورس کے تازہ تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔
حماس نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ نفحہ جیل کے اسیران کو نقصان پہنچا تو اسرائیل کو اس کے سنگین نتائج بھگتا ہوں گے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کےمطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں حماس کے سیاسی شعبے کے رکن عزت رشق نے اپنے ایک بیان میں نفحہ جیل کے وارڈ نمبر گیارہ میں حماس کےاسیران کےساتھ”مستادا” نامی فوجی یونٹ کے ہاتھوں قیدیوں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ نفحہ جیل سے حماس اور دیگر جماعتوں کے اسیران کو "ناحشون”جیل منتقل کرنا اسرائیل کی نسل پرستی کا مظہر ہے۔ قیدیوں پر تشدد کے لیے انہیں کسی نامعلوم مقام پر منتقل کرنا یا انہیں نخشون جیل میں لے جانا اسرائیل کے سنگین جرائم میں سے ایک سنگین جرم ہے۔
حماس رہ نما کا کہنا تھا کہ اسرائیل قیدیوں کےدرمیان اس لیے تفریق پیدا کر رہا ہے تاکہ اسیران کے احتجاجی اقدامات کو ناکام بنا سکیں، لیکن اسرائیل فلسطینی اسیران کے مطالبات کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ اسیران کو چاہے جس جیل میں بھی منتقل کیا جائے صہیونی حکومت کو ان کے جائز مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔
عزت رشق نے اسرائیلی جیلوں میں اسیران کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو آگاہ کرتے ہوئے ان سے اپیل کہ وہ صہیونی جارحیت کا نوٹس لیں اورعالمی قوانین کے تحت اسیران کو ان کے حقوق دلوانے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

