انسانی حقوق کی ایک عالمی تنظیم”یکجہتی فاؤنڈیشن برائے انسانی حقوق” نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں رواں ماہ
کے پہلے دس ایام میں اندھادھند کریک ڈاؤن کے دوران کم سے کم ایک سو سے زائد فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ محروسین میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے 26 بچے اور کئی سابق اسیران بھی شامل ہیں جنہیں گذشتہ برس حماس کےساتھ ایک سمجھوتے کے نتیجے میں جیلوں سے رہا کیا گیا تھا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق یکم مارچ سے دس مارچ تک کے اس عرصے میں قلقیلیہ شہر سے تین خواتین کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں سے چھیس سالہ دیالا مصطفیٰ زرہ کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ جیل میں اپنے اسیر بھائی محمد مصطفیٰ زرہ سے ملاقات کے لیے گئی۔ محمد مصطفیٰ کو سنہ 2003ء میں حراست میں لیا گیا تھا، انہیں ریمون جیل میں حراست میں رکھا گیا ہے جہاں انہیں عمرقید کا سامنا ہے۔ ایک دوسری خاتون تیس سالہ یسری عادل کو بھی اپنے عمر قید کاٹنے والے بھائی سے ملاقات کے لیے جیل کے احاطے سے حراست میں لیا گیا۔
فلسطینی ماہر قانون احمد طوباسی نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ تازہ گرفتاریاں بغیر کسی سبب کی گئی ہیں۔ کیونکہ مغربی کنارے میں حالات مکمل طورپر پر سکون ہیں اس کےباوجود خواتین،بچوں اور دیگر شہریوں کو بلا امتیاز حراست میں رکھا جا رہا ہے۔
طوباسی نے بتایا کہ مارچ کے پہلے ہفتے میں اسرائیلی فوج نے بیت المقدس سے 39 افراد کو حراست میں لیا۔ ان میں سے 17 کم عمر لڑکے ہیں جنہیں اسرائیلی فوجیوں کی گاڑیوں پر پتھر پھینکنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نابلس سے 15،قلقیلیہ سے10 جنین سے09 بیت لحم سے چار، رام اللہ سے تین اور مغربی کنارے کےشمالی شہر سلفیت سے دو شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے فلسطینیوں کی بلا جواز گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل مسلسل فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھ کران پر اپنا رعب قائم کیے رکھنا چاہتا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

