مسلمان علماء کی بین الاقوامی یونین کے سربراہ الشیخ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نےعربوں اور مسلمانوں کے دورہ القدس کو حرام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے شہر پر اسرائیلی تسلط کو قانونی جواز ملے گا۔ اسی موضوع پر اپنے سابقہ فتوی کااعادہ کرتے ہوئے علامہ قرضاوی کا کہنا تھا کہ فلسطینی،
جب چاہیں القدس جا سکتے ہیں تاہم غیر فلسطینیوں کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیرفلسطینیوں کو القدس کے سفر کی خاطر اسرائیلی سفارتخانوں سے ویزے لگوانے ہوں گے، جو صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔
عالم اسلام کے سرکردہ مذہبی اسکالر فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے حال ہی میں دیئے جانے والے اس بیان پر تبصرہ کر رہے تھے جس میں انہوں نے مسلمانوں کو القدس کا دورہ کرنے پر زور دیا تھا۔ قطری دارلحکومت دوحہ میں اپنے منشور بیان میں علامہ یوسف القرضاوی کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ ہم القدس سے محروم ہیںاور اس کا قبضہ چھڑانے کے لئے لڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقدس شہر سے اسرائیلی تسلط کو ختم کرانا پوری امت مسلمہ کا فرض ہے، صرف فلسطینی اس فریضے کےمکلف نہیں ہیں۔ فلسطینیوں کو اسرائیل جیسی فوجی قوت سے لڑنے کے لئے تنہا چھوڑنا کسی طور پر درست نہیں ہے۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے شیخ یوسف قرضاوی نے کہا کہ القدس کو امت اسلامیہ کی مزاحمت اور جہاد کے ذریعے ہی اسرائیلی تسلط سے آزاد کرایا جا سکتا ہے۔ انہوں نےانتہاء پسند صہیونیوں کو خبردار کیا کہ وہ مسجد اقصی کو گزند پہنچانے سے باز رہیں کیونکہ پوری دنیا کے مسلمان اس پر کسی بھی زیادتی کو خطرے کی گھنٹی سمجھتے ہیں۔
ادھر اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے بھی محمود عباس کی جانب سے مسلمانوں اور عربوں کو القدس کا دورہ کرنے سے متعلق اپیل پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے سے اسرائیل کو اس مقدس شہر کو یہودی رنگ میں رنگنے کی کوشش سے روکا نہیں جا سکتا بلکہ ایسے اقدامات سے شہر پر صہیونی تسلط کو قانونی جواز ملے گا۔ فوزی برھوم نے ایک بیان، جس کی نقل مرکز اطلاعات فلسطین کو بھی موصول ہوئی ہے،میں کہا القدس آمد اسی وقت ممکن ہے کہ جب یہ صہیونی تسلط سے آزاد ہو۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

