اردنی اراکین پارلیمان نے القدس میں مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی پر یہودیوں کے پے درپے حملوں کے خلاف اپنی حکومت سے عمان میں اسرائیلی سفارتکار کو ملک بدر کرنے اور تمام سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اراکین پارلیمان نے اپنی قرارداد میں اردنی اسپیکر سےمطالبہ کیا کہ اردن کے سفیر کو فوری واپس اسرائیل بھیجا جائے۔ اردنی پارلیمنٹیرینز نے اپنی قرار داد میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے قتل عام اور انہیں طرح طرح کےمظالم کا نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔
اردنی نے رہنماؤں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے القدس سے اسلامی آثار مٹا کر ان کی جگہ یہودی تعمیرات شروع کر رکھی ہیں اور وہ پورے القدس کو یہودی رنگ میں رنگتا جا رہا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

