فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے نکالی گئی ایک احتجاجی ریلی پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید او رچھ زخمی ہو گئے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا یہ واقعہ مغربی کنارے کے وسط میں "قلندیہ” چوکی کے قریب اس وقت پیش آیا جب فلسطینیوں کی ایک احتجاجی ریلی وہاں سے گذرنے لگی اور اسرائیلی فوج نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ فائرنگ کی زد میں آکر 25 سالہ طلعت رامیہ شہید ہو گیا۔ شہید نوجوان کا تعلق مغربی کنارے کے شہر الرام سے بتایا جاتا ہے۔ یوں نصرت اسیران ریلیوں میں مسجد اقصیٰ کے لیے اپنا خون پیش کرنے والی یہ پہلی بستی ہے۔
الرام کے ایک مقامی شہری نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے مشتعل مظاہرین کو روکنے کے لیے ان پر براہ راست گولیاں چلائیں، ایک گولی نوجوان طلعت کے سرمیں لگی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔ اسےاسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا، اشک آورگیس کے گولے داغے اور ربڑ کی گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔ اندھا دھند آنسو گیس کے استعمال سے درجنوں افراد دم گھٹنے سے بھی متاثرہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور نوجوان کی شہادت کے بعد فلسطینی مزید مشتعل ہو گئے اور انہوں نے فوجی چوکی کے قریب کھڑی صہیونی فوج کی گاڑیوں کو آگ لگا دی اور چوکی پر بھی پتھراؤ کیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

