فلسطین کے بیرون ملک سرگرم علماء کرام اور دیگر دینی شخصیات نے خبردار کیا ہے انتہا پسند دشمن صہیونیوں کے ہاتھوں قبلہ اول کےخلاف شرانگیز سازشیں مسلمانوں کے اس مقدس مقام کےحوالے سے سنگین نتائج کی حامل ہو سکتی ہیں،
خاص طور پر انتہا پسند یہودی عورتوں اور مردوں کے ان دنوں قبلہ اول میں مسلسل اجتماعات کسی بڑے خطرے سے خالی نہیں۔ اسرائیل یہ نہ سمجھے کہ یہودی مسلمانوں کے قبلہ اول کے خلاف شرانگیزیاں کرتے رہیں اور مسلم دنیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کرے۔ قبلہ اول کو نقصان پہنچا تو پوری مسلم برادری فلسطین اور بیت المقدس میں جمع ہو گی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت میں علماء کونسل کے ہیڈکواٹر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کی مسلسل آمد ورفت اور قبلہ اول کےخلاف جاری شرانگیزیوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ اگر اسرائیل نے انتہاپسندوں کو مسجد اقصیٰ پر حملوں سے نہ روکا توعرب اقوام کی عوامی طاقت اور پوری مسلم دنیا کو مسجد اقصیٰ میں جمع ہونے کی کال دی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ قبلہ اول کا دفاع عربوں اور تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اس کے تحفظ کی تنہا ذمہ داری فلسطینیوں پرعائد نہیں ہوتی۔ یہودی مسجد اقصیٰ کی مسلسل توہین کر کے خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں اور اسرائیل کو آگ سے کھیلنا مہنگا پڑے گا۔
علماء کونسل نے تمام فلسطینیوں مردوں،عورتوں اور بوڑھوں پر زور دیا کہ وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت قبلہ اول کے دفاع کے لیے مسجد اقصیٰ میں گزاریں۔ قبل اس کے یہودی قبلہ اول کو نقصان پہنچائیں فلسطینیوں کا وہاں پر موجود ہونا ضروری ہے۔ قبلہ اول کے دفاع کا بہترین اور پرامن طریقہ یہ ہےکہ مسجد اقصیٰ کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔
فلسطینی علماء نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے بیت المقدس میں جاری یہودی آباد کاری، مغربی کنارے میں انتہا پسندوں کے بڑھتے حملوں اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسےانتہا پسندی اور دہشت گردی کی بدترین مثالیں قرار دیا۔
علماء نےعالم اسلام، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں، عرب لیگ اور اسلام تعاون تنظیم (او آئی سی) پر زور دیا کہ وہ قبلہ اول کو یہودیوں کی ریشہ دوانیوں سے بچانے کے لیے ٹھوس فیصلے کریں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

