فلسطین کے ایک سرکردہ سیاسی رہنما اور کئی سال تک اسرائیلی جیل میں قید کاٹنے کے بعد تبادلہ اسیران کی ڈیلنگ کےتجت رہائی پانے والے سابق اسیر نائل البرغوثی نے الزام عائد کیا ہے
کہ اسرائیلی جیل میں بھوک ہڑتالی قیدی شیخ خضرعدنان کی رہائی میں ناکامی کی تمام تر ذمہ داری فلسطینی اتھارٹی پرعائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ اور صدر محمودعباس شیخ عدنان کی جان بچانے میں انہیں رہائی دلوانے میں سفارتی میدان میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ممتاز فلسطینی سیاست دان نے ایک عرب خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ہا کہ”فلسطینی اتھارٹی نے سرکاری سطح پر شیخ خضرعدنان کی رہائی کے لیے کوئی تحریک نہیں چلائی اور نہ ہی کوئی سفارتی کوشش کی گئی۔ اس وقت فلسطینی انتظامیہ اورتنظیم آزادی فلسطین ملک کے نمائندہ سفارتی ادارے ہیں، انہیں چاہیے تھا کہ وہ پوری دنیا میں اپنے سفارت کاروں کو متحرک کر کے شیخ عدنان کے معاملےکو عالمی شکل دیتے لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ اسرائیلی فوج اور حکومت کو شیخ عدنان پر مظالم جاری رکھنےکا موقع فراہم کیا گیا۔ فلسطینی اتھارٹی کی اس مبینہ غفلت میں خودصدر محمود عباس بھی شریک ہیں جنہوں نے مظلوم اسیر کے معاملے کو کوئی اہمیت نہیں دی۔
خیال رہے کہ نائل برغوثی سنہ 1988ء کے بعد سےاسرائیلی جیل میں قید تھے۔ چار ماہ پیشتر حماس اور اسرائیل کے درمیان طے پائے اسیران کے ایک سمجھوتے کے تحت ان کی رہائی ممکن بنائی گئی تھی۔
انہوں نے شیخ خضرعدنان کی رہائی میں سستی کا مظاہرہ کرنے پر فلسطینی انتظامیہ کو ایک ایسے وقت میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے جب شیخ عدنان اسرائیل کی ایک جیل اسپتال میں گذشتہ 65 دن سے مسلسل بھوک ہڑتال پر ہے اور اب وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

