مصر کے ممتاز عالم دین اور عالمی علماء کونسل کے چیئرمین علامہ یوسف القرضاوی نے عالم اسلام اور تمام عرب اقوام سے مطالبہ کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کو پنجہ یہود سے آزاد کرانے اور بیت المقدس کو یہودیوں سے چھڑانے کےلیے عوامی انقلاب کی تحریک چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے قبلہ اول کو شدید نوعیت کےخطرات لاحق ہو چکے ہیں اور مسلمانوں کی دانستہ خاموشی قبلہ اول کو شدید نقصان پہنچانے کا موجب بن سکتی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق علامہ یوسف القرضاوی نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل انتہا پسند یہودیوں کی سرپرستی کر کے مسجد اقصیٰ کی شہادت کی راہ ہموار کر رہا تاکہ اس کی بنیادوں پر مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی جاسکے۔
انہوں نے کہ اکہ قبلہ اول مسلمانوں کا مقدس ترین مقام ہے۔یہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دلوں میں بستا ہے اور صہیونیوں کی ناپاک سازشیں ہم سے ہمارے پہلے قبلہ کو چھین نہیں سکتیں، تاہم عالم اسلام اور عرب ممالک کے موجودہ حالات مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے حوالے سےمخدوش ہیں۔
میں اسرائیل کو خبردار کرتا ہوں کہ وہ قبلہ اول کو نقصان پہنچانے سے گریز کرے ورنہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن مسجد اقصیٰ کو نقصان پہنچانے کا کوئی حربہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں میں مسلم دنیا سے بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ قبلہ اول کے حوالے سے اپنی خاموشی توڑدیں،اپنے وسائل اور اقوام کا رخ قبلہ اول کی طرف موڑ دیں تاکہ اسے پنجہ یہود سے آزاد کرایا جا سکے۔
شیخ القرضاوی نے نام لے کہا کہ فلسطینی شہروں غزہ کی پٹی، مغربی کنارے، بیت المقدس، مصر، اردن،شام ، لبنان اور تمام پڑوسی ملکوں کی پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کو آزاد کرانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
انہوں نے اسرائیل کو مخاطب کرکے کہا کہ عالم اسلام کی بیداری کا وقت آ چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل کی فلسطینیوں کے ساتھ برتی گئی تمام ناانصافیوں کا ازالہ کیا جائےگا۔ اسرائیل کو معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمہ امہ اب سوئی ہوئی نہیں بلکہ بیداراور ظالموں کی گھات میں ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

