فلسطین میں قابض یہودیوں کی جانب سے مسلمانوں کے قبلہ اول کے خلاف سازشوں میں ملوث انتہا پسند یہودیوں کے حملوں میں غیرمعمولی اضافے پر فلسطین سمیت پورے عالم اسلام میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
فلسطین کی ایک سرکردہ سیاسی اور مذہبی جماعت اسلامی تحریک نے یہودیوں کےحملوں پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہا پسندوں نے مسجداقصیٰ کے پہلو میں مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین کہ سنہ 1948ء کے دوران قبضے میں لیے گئے علاقوں میں قائم اسلامی تحریک کے نائب صدرالشیخ کمال الخطیب نے یہودی آبادکاروں اور انتہا پسند یہودی گروپوں کے اقدامات کو قبلہ اول کےخلاف صہیونیوں کا”سیاہ منصوبہ” قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک عرب خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ الخطیب نے کہا کہ یہودیوں مسجد اقصیٰ کے پہلو میں تعمیرات کا آغاز کیا ہے جو مذموم ہیکل سلمیانی کا مبینہ سنگ بنیاد ہے، جس سے قبلہ اول کو سنگین نوعیت کےخطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں شیخ کمال الخطیب نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی بنیادوں میں کی جانے والی کھدائیاں، اس کی بیرونی دیواروں کو گرانے کی سازشیں اور یہودی آباد کاروں کے مسجد اقصیٰ پر مسلسل حملے مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی طرف قدم بہ قدم آگے بڑھنے کی سازش کا حصہ ہیں۔ اسرائیل انتہا پسندوں کی آڑ میں مسجداقصیٰ کو جلد ازجلد شہید کر کے اس کی بنیادوں پریہودیوں کے مقدس مقام ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔
فلسطینی رہنما کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کے آس پاس کے علاقوں کو یہودیوں کا گڑھ بنا دیا ہے۔ کئی پبلک پارک تعمیر کیے گئے اور ہیکل سلیمانی کے اسرائیلی نقشے کےمطابق اس کے آس پاس کا نقشہ عملی طورپر مکمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیاہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے گردوپیش میں جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ قبلہ اول کی جگہ ہیکل سلیمانی کے نقشے کے عین مطابق ہے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں شیخ کمال الخطیب کا کہنا تھا کہ مارچ میں یہودیوں کی عیدالفصح کےموقع پر مسجد اقصیٰ پرانتہا پسندوں کے حملوں میں اضافے کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر فلسطینیوں کو قبلہ اول کے دفاع کے لیے زیادہ چوکنا رہنا ہو گا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

