اسرائیلی فوجی انتظامیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم "رامون” عقوبت خانے میں زیرحراست فلسطینی اسیران کو کئی بنیادی سہولیات سے محروم کر دیا ہے۔ دوسری جانب اپنے اسیران سےملاقات کے لیے آنےوالے ان کے اقارب کے ساتھ نہایت توہین آمیزسلوک کے بعد انہیں بغیر ملاقات کے واپس بھیج دیا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی جیل انتظامیہ نے جیل کی بجلی بند کرتے ہوئے بجلی پر چلنے والی اشیاء ضبط کر لی ہیں اور تمام اسیران پر کینیٹن سے اپنے لیے اشیاء ضروریہ خریدنے پربھی پابندی عائد کر دی ہے۔ اسرائیلی جیل حکام نے فلسطینی اسیران سے یہ انتقامی سلسلہ اس وقت شروع کیا جب اسیران نے جیل میں ملاقات کے لیے آنے والے اپنےعزیزوں کےساتھ اسرائیلی حکام کے توہین آمیز سلوک پر احتجاج کیا۔
خیال رہے کہ جیل میں آنے والے فلسطینی اسیران کے اہل خانہ اور دیگر افراد کی جامع تلاشی لی جاتی رہی ہے۔ خواتین کے چہروں سے ان کے نقاب نوچ کر انہیں عریاں تلاشی پر مجبور کیا جاتا رہا ہے جس کےبعد جیل میں موجود اسیران نے صہیونی جرائم کے خلاف احتجاج کیا۔ قابض انتظامیہ نے ان کے جائزمطالبات تسلیم کرنے کے بجائے مزید پابندیاں عائد کر دیں۔
ادھر عرب خبررساں ایجنسی”قدس پریس” نے اطلاع دی ہے کہ کئی قیدیوں کے اہل خانہ نے جیلوں میں اپنےمحروس عزیزوں کو بتایا کہ اسرائیلی جیل انتظامیہ نے ان کی جامعہ اور عریاں تلاشی لی ہے اور انکے ساتھ نہایت توہین آمیز سلوک کیا گیا۔ جس پر اسیران سخت مشتعل ہو گئے اور انہوں نے جیل کی انتظامیہ کےخلاف شدید نعرے بازی شروع کی۔ یہ نعرے بازی انتظامیہ اور قیدیوں کے درمیان ہاتھا پائی تک جا پہنچی جس کے بعد انتظامیہ نے قیدیوں سے بجلی پر چلنے والی تمام اشیا ضبط کرتے ہوئے انہیں کینیٹن سے کسی قسم کی چیزیں خریدنے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی زندانوں میں زیرحراست فلسطینی شہریوں کے اہل خانہ بالخصوص اسیران کی مائیں اور ان کی بیویاں اکثر یہ شکایت کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ اسرائیلی جیل انتظامیہ ان کے ساتھ نہایت توہین آمیز سلوک روا رکھے ہوئے ہے اور جب بھی وہ جیلوں میں اپنے پیاروں سے ملنے جاتی ہیں تو جیل حکام انہیں عریاں تلاشی دینے پر مجبور کرتے ہیں۔ تلاشی نہ دینے پرعزیزوں سے ملاقات نہ کرانے کی دھمکی دے کر بلیک میل کیا جاتا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

