اسرائیلی حکومت اور اس کی انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے بیت المقدس کو یہودیانے کے ساتھ ساتھ مسجد اقصیٰ کے خلاف سازشوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا ہے۔
بیت المقدس کے تحفظ کے لیے سرگرم اسلامی مسیحی کمیٹی نے اسرائیل کی ایک نئی سازش کا پتہ چلایا ،جس میں بتایا گیا ہے کہ تل ابیب حکومت کے تعاون سے انتہا پسند یہودی مسجداقصیٰ میں مذموم ہیکل سلیمانی کے ڈھانچے کی تنصیب کی تیاری کر رہے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس میں اسلامی و مسیحی کمیٹی برائے تحفظ مقدسات کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حنا عیسیٰ نے میڈیا کو بتایا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں کے منصوبے کے تحت مسجد اقصیٰ کو یہودیوں اور مسلمانوں کے مابین تقسیم کرنے کے لیے جلد ہی ہیکل سلیمانی کا ایک ڈھانچہ مسجد اقصیٰ کے مقدس ترین حصے مقام براق کے سامنے نصب کیا جائے گا۔ اس طرح کا ایک ڈھانچہ مسجد اقصیٰ کے پہلو میں یہودیوں کے تعمیرکردہ "البراق” میوزیم میں بھی رکھے جانے کی اسکیم تیار کی گئی ہے۔
حنا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ کو تقسیم کرنے کی گھناؤنی سازش میں امریکا میں یہودی لابی کے تعاون سے تیار کی گئی ہےاور اس کا مقصد انتہا پسند یہودیوں کو استعمال کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی راہ ہموار کرنا ہے۔
القدس کمیٹی کےسربراہ نے بتایا کہ ان دنوں انتہا پسند یہودیوں کی مسجد اقصیٰ میں آمد ورفت میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے اور شدت پسندوں نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز مسجد اقصیٰ کے جنوب مغربی حصے کو بنایا ہے جہاں مقام براق واقع ہے۔ انتہا پسند یہودی اسی مقام پر ہیکل سلیمانی کا ڈھانچہ رکھنا چاہتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہیکل سلیمانی کے ڈھانچے کی تصیب ہیکل کی تنصیب کاعملی آغاز ہے۔ کیونکہ اس کے بعد یہودیوں کو یہاں پر ہیکل کی تعمیر کے لیے کام کرنا آسان ہو جائے گا۔ دوسرے معنوں میں مسجد اقصیٰ میں ہیکل سلیمانی کی تنصیب ہیکل کا سنگ بنیاد ہے۔
حنا عیسیٰ نے خبردار کیا کہ اسرائیلی حکومت، شدت پسند مذہبی یہودی گروہ اور مسجد اقصیٰ کو تقسیم کرنے کے حامی یہودی گروپ مل کر مسلمانوں کے اس تیسرے مقدس مقام کو تقسیم کرنے کی اسکیم میں شامل ہیں۔ اسرائیل کا یہ اقدام کسی بڑے خطرے سے خالی نہیں۔ اگر یہودیوں نےمسجد اقصیٰ میں ہیکل کے ڈھانچے کو نصب کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تو یہ مسلمانوں کی بہت بڑی کمزوری اور یہودی دہشت گردوں کی کامیابی تصور ہو گی۔ اس کا نتیجہ خطے میں مذہبی جنگ چھڑنے کی شکل میں سامنے آ سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مسجد اقصیٰ کی جگہ نصب کرنے لیے ہیکل کا ڈھانچہ امریکا میں تیار گیا ہے جس کی تیاری میں امریکا میں موجود اسرائیل نواز لابی شامل ہے، جس نے اس کی فنڈنگ اور فنی معاونت کی ہے۔
فلسطینی رہنما نے عالم اسلام سے مطالبہ کیا کہ وہ بیداری کا ثبوت دیں اورمقام معراج رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہودیوں کے ناپاک عزائم سے بچائیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نےاپنی روایتی غفلت کا مظاہرہ جاری رکھا تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے اور قبلہ اول ہمارے ہاتھ سے جا سکتا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

