فلسطین کی منظم مذہبی ، سیاسی اور عسکری تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے واضح کیا ہے کہ قطرمیں جماعت کے سیاسی شعبے کے سربراہ اور جلاد وطن لیڈر خالد مشعل اور وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کے درمیان ملاقات نے ثابت کیا ہے کہ تنظیم میں اختلافات کی خبریں قطعی بے بنیاد ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان ڈاکٹرسامی ابوزھری نے اپنےایک بیان میں کہا کہ بدھ کے روز حماس کے رہ نماؤں خالد مشعل اور اسماعیل ھنیہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دوحہ اعلامیے پر اتفاق کا اظہار کیا گیا۔
میڈیا کو جاری ایک بیان میں حماس کے ترجمان نے کہا کہ دوحہ میں خالد مشعل۔ ھنیہ ملاقات نےجماعت کی اندرون فلسطین اور بیرون ملک قیادت کے درمیان اختلافات کی افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ حماس کی اندرون اور بیرون ملک قیادت دوحہ اعلامیے کے تحت صدر محمودعباس کو قومی حکومت کا سربراہ بنائے جانے پر متفق ہے۔ حماس کی قیادت میں اس سلسلےمیں نہ صرف اختلافات نہیں ہیں بلکہ دوحہ اعلامیے کے مطابق مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے کی ضرورت پربھی زور دیا گیا ہے۔
انہوں نے فلسطینی قوم کو اطمینان دلایا کہ وہ حماس کی قیادت میں اختلافات کی افواہوں پر کان نہ دھریں۔ اس طرح کی افواہیں دشمن کی جانب سے چھوڑی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کے دلوں میں حماس کے بارے میں شکوک پیدا کیے جا سکیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل اور صدر محمود عباس نے دوحہ میں امیرقطرکی میزبانی میں مذاکرات کیے تھے۔ ان مذاکرات میں دونوں فلسطینی لیڈروں نے مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ ان مذاکرات میں خالد مشعل نے محمودعباس کو فلسطین میں قومی عبوری حکومت کا سربراہ بنائے جانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

