فلسطین پر قابض یہودیوں کی جانب سے قبلہ اول کے خلاف شرپسندانہ اقدامات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اتوار کے روز مسجد اقصیٰ میں غنڈہ گردی کے بعد آج منگل کے روز بھی انتہا پسندگروپوں نے مسجداقصیٰ کی اعلانیہ بے حرمتی کا فیصلہ کیا ہے۔
یہودی انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے بعد فلسطینی شہریوں میں سخت غم وغصے کی فضاء پائی جا رہی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انتہا پسند یہودیوں کا بیس شدت پسندوں پر مشتمل ایک گروپ آج منگل کو مسجد اقصیٰ پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق”ویمن فارہیکل” نامی تنظیم کےسربراہ "اینف زیف” اور زیفکا شمعون مسجد اقصیٰ پرحملوں کے لیے یہودیوں کو منظم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں اور آج یہودیوں کے گروپوں کی آمد بھی انہی انتہا پسند یہودی سرغنوں کی رہ نمائی میں ہو گی۔
ادھر اسرائیلی میڈیا میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ منگل کے روز یہودی ربی”آتی البصور” کی قیادت میں "النسویہ” یہودی فرقے کے غنڈوں کو لے کرمسجد اقصی میں جائے گا۔ اس سلسلے میں پولیس اور سیکیورٹی حکام سے اجازت حاصل کر لی گئی ہے۔ پولیس اورفوج انتہا پسندوں کوہرممکن تحفظ فراہم کرے گی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹس اور آنل ائن خبررساں ویب سائیٹس میں یہودیوں کوترغیب دی گئی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں مسجد اقصیٰ میں جمع ہو کر مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیرکی تیاریاں شروع کریں۔
دوسری جانب مقامی فلسطینی شہریوں نے انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے قبلہ اول کےخلاف بڑھتی ریشہ دوانیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا سینٹر برائے القدس کے ڈائریکٹر محمد صادق نےعالمی اور فلسطینی ذرائع ابلاغ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قبلہ اول کو لاحق خطرات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنےعالمی برادری میں بیداری پیدا کریں تاکہ مسلمانوں کے اس مقدس مقام کے تقدس کو قائم رکھا جا سکے۔

