عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصی پر حالیہ یہودیوں کے حالیہ دھاوں اور مزید حملوں کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے اسرائیل کے ساتھ نام نہاد ’’امن عمل‘‘ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایک بار پھر اس بات پر زور دیا گیا کہ جامع اور ہمہ جہت معاملات پر اسرائیل کے ساتھ امن عمل ہی عرب ممالک کا تزویراتی آپشن ہے۔ امن کے جامع مذاکرات سے کسی طور صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔
عرب لیگ کے اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ مکمل اور دیر پا امن اسی صورت قائم ہو سکتا ہے جب وہ مقبوضہ عرب اور فلسطینی علاقوں سے مکمل طور پر نکل جائے۔ عرب لیگ کے مطابق ان مقبوضہ علاقوںمیں 1967ء میں قبضہ کی گئی گولان کی شامی پہاڑیاں اور جنوب لبنان کی مقبوضہ اراضی بھی داخل ہیں۔ اسی طرح مشرقی القدس کے دارالحکومت پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل بھی مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے کلیدی حیثیت کی حامل ہے۔
عرب لیگ نے فلسطین اسرائیل تنازع کے حل اور فلسطینی سرزمین سے صہیونی تسلط ختم کرنے، دونوں ملکوں کے مابین سرحدی تنازعات حل کرنے اور فلسطینی پناہ گزینوں کے مسائل کے حل کے لیے عالمی کانفرنس بلانے کے اہمیت پر زوردیا۔
اس موقع پر عرب لیگ نے حالیہ دنوں اسرائیل کی جانب سےمغربی کنارے میں بالعموم اور القدس میں بالخصوص یہودی بستیوں کی توسیع اور فلسطینی املاک پر حملوں کی شدید مذمت کی۔
عرب لیگ کی ایک اور قرارداد میں ایک فنڈ تشکیل دینے پراتفاق کیا گیا، اس فنڈ کے ذریعے ہر ماہ فلسطینی اتھارٹی کو دس کروڈ ڈالرز مہیا کیےجائیں گے۔ یہ رقوم اسرائیل کی جانب سے حماس کے ساتھ مفاہمت پر اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام پر ڈالے جانے والے مالی دباؤ سے نمٹنے کے لیے استعمال کی جائیں گی۔

