فلسطین کی منظم مزاحمتی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر حملوں کی دھمکیوں اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے ان کے تحفظ کے اعلانات کو عالم اسلام کے خلاف کھلی جارحیت اور اعلان جنگ قرار دیا ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ ناپاک یہودی آباد کاروں کے مسجد اقصیٰ کے خلاف بڑھتے خطرات نے سنگین صورت حال پیدا کر دی ہے اور قبلہ اول کو پہنچنے والا نقصان ریڈ لائن تک پہنچ چکا ہے۔ ایسے میں عالم اسلام کا قبلہ اول کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کےمطابق حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں انتہا پسند یہودی سیاسی جماعت لیکوڈ کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں اپنے غنڈوں کو داخل کرنے کی دھمکی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے مسجد اقصی کے خلاف خطرات آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔ قبلہ اول کو بچانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ مسلم دنیا بیدار ہو جائے اور اپنے پہلے قبلہ کو بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
حماس نے فلسطینی شہریوں بالخصوص سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں سے تعلق رکھنے اور بیت المقدس کے مکینوں کو دفاع قبلہ اول کی فرنٹ لائن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسجد اقصیٰ میں جمع ہو جائیں اور ناپاک یہودیوں کو قبلہ اول پردست دراز کی سازشوں کو ناکام بنا دیں۔ حماس نے تمام فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ دشمن کے قبلہ اول کی طرف بڑھتے ہاتھ کاٹ دیں۔
حماس نے فلسطینی شہریوں کی جانب سے انتہا پسند یہودیوں کے قبلہ اول میں داخلے کی سازشوں کو روکنے میں کامیابی پران کی تعریف اور کہا کہ حماس فلسطینیوں کے ساتھ قبلہ اول کے تحفظ کے لے ساتھ ہے۔ حماس کے جانثار قبلہ اول کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف ہر محاذ پر لڑائی جاری رکھیں گے۔
حماس نے عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم”او ائی سی” سے مطالبہ کیا کہ وہ صہیونی ریاست کے جرائم پر اس کا ہر سطح پر بائیکاٹ کرتے ہوئے قبلہ اول کو بچانے کے لیے اپنی طاقت کو مجتمع کریں۔

