فلسطین کی دو بڑی سیاسی جماعتوں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” اور "الفتح” کےزیر انتظام مفاہمتی عمل آگے بڑھانے کے لیے بنائی گئی "فریڈم کمیٹی” نے قاہرہ میں مصری انٹیلی جنس چیف کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے ہیں۔
ہفتے کے روز قاہرہ میں ہونے والے ان مذاکرات میں دونوں جماعتوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک مصرکی سفارشات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
خیال رہے کہ فلسطینی جماعتوں حماس اور فتح گذشتہ ایک سال سے مفاہمت کے ایک سمجھوتے تک پہنچنےکی کوشش کررہی ہیں۔ گذشتہ برس مئی میں دونوں جماعتوں کے درمیان مصر نے مفاہمت کاایک معاہدہ کرایا تھا۔ جس کے بعد اب دونوں جماعتیں بہت سے دوطرفہ امور پرمتفق ہوچکی ہیں۔ مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے بالخصوص مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں قائم کردہ "فریڈم کمیٹی” براہ راست مصری نگرانی میں کام کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمیٹی کے بیشتر اجلاس قاہرہ میں مصری حکومت کی سرپرستی میں ہوتے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق قاہرہ میں ہفتے کے روز ہونے والے اجلاس میں اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق، سیاسی شعبے کے رکن اسماعیل اشقر اور فتح کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور مفاہمتی مذاکرات کار عزام احمد شریک ہوئے۔
اجلاس کے بعد مرکز اطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتےہوئے حماس رہ نما انجینیئر اسماعیل اشقر نے بتایا کہ قاہرہ میں مصری انٹیلی جنس کے ساتھ فریڈم کمیٹی کے مذکرات میں سیاسی گرفتاریوں کے بارے میں تفصیل سے جائزہ لیاگیا۔
اسماعیل اشقرکا کہنا تھا کہ قاہرہ مذاکرات میں سیاسی گرفتاریوں کا مسئلہ حل کرنے سمیت نو نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سیاسی گرفتاریوں کےعلاوہ سیاسی بنیادوں پر ملازمتوں سےفارغ کیے گئے سابق ملازمین کی تنخواہوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
قومی فریڈم کمیٹی کا ایک اگلا اجلاس آج قاہرہ میں ہوگا، جس میں مغربی کنارے میں فتح کے کو آرڈینیٹر مصطفیٰ البرغوثی، اسلامی جہاد کے راہنما خالد البطش، فتح کے مفاہمتی مذاکرات کار عزام احمد اور حماس کےسیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق کے علاوہ مصری انٹیلی جنس چیف بھی شرکت کریں گے۔ اجلاس میں مغربی کنارے میں فتح کی حکومت کے زیرانتظام سیکیورٹی اور سیاسی گرفتاریوں کا مسئلہ حل کرنے اور کسی متفقہ فیصلے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔

