فلسطینی اتھارٹی کے زیرِانتظام مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں اسرائیل کی نسلی دیواراور یہودی آباد کاری کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاج کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نہتے اور غیرمسلح فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے وحشیانہ تشدد کیا ہے جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مغربی کنارے کے شہر رام اللہ، بلعین، نعلین، النبی الصالح اور دیگر شہروں پر نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد بڑی تعداد میں شہروں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی جلوس اور ریلیاں نکالیں، مظاہرے کیے اور یہودی آباد کاری اور اسرائیلی مظالم کے خلاف نعرے لگائے۔
مقامی مزاحمتی کمیٹیز کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق النبی صالح میں ایک احتجاجی جلوس پر اسرائیلی فوج کے وحشیانہ لاٹھی چارج سے ایک درجن کے قریب افراد زخمی ہو گئے۔ مظاہرین سخت مشتعل دکھائی دے رہے تھے اور اسرائیلی فوج کے لاٹھی چارج کے باوجود شدید نعرے بازی کرتے رہے۔
رام اللہ کے مغرب میں بلعین میں نکلنے والے احتجاجی جلوس میں سیکڑوں شرکاء نے ہاتھوں میں اسلامی جہاد کے اسیر رہ نما اور صہیونی تفتیش کاروں کے وحشیانہ تشدد کا شکار فلسطینی کمانڈر خضرعدنان کی تصاویراٹھا رکھی تھیں اور ان کی رہائی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ قید تنہائی کا شکار اور بھوک ہڑتالی فلسطینی اسیرکو اس کے تمام بنیادی حقوق فوری طورپر فراہم کیے جائیں اس کی زندگی کو بچایا جائے۔ مظاہرین نے فلسطینی پرچم اور کتبے بھی تھام رکھے تھے جن پر اسرائیلی نسلی دیوار اور مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف شدید نعرے درج تھے۔قابض فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا اور زہریلی آنسوگیس کے گولے پھینکے جس کےنتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔کفرقدوم اور معصرہ میں جھڑپیں
مغربی کنارےکے شہروں کفرقدم اور معصرہ میں قابض اسرائیلی فوج اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان دیرتک آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔ اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر پلاسٹک کورڈ آہنی گولیاں برسائیں، لاٹھی چارج کیا اور وحشیانہ آنسوگیس استعمال کی جس کے نتیجے میں ایک فرانسیسی خاتون صحافی اور ایک مقامی فلسطینی صحافی عبدالحق سمیت دسیوں افراد زخمی ہو گئے۔
معصرہ اورکفرقدوم میں اسرائیلی فوج نے مساجد کا گھیراؤ کر رکھا تھا۔ فلسطینیوں کو احتجاجی مظاہروں کی شکل میں جمع ہونے سے قبل روکنے کی کوشش کی گئی تاہم مظاہرین سخت غصے میں تھے، وہ مساجد سے نکلتے ہی سڑکوں پر سراپا احتجاج ہو گئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے مختلف مقامات کے داخلی اور خارجی راستے بھی بند کر دیے تھے۔
ادھر نابلس کے جنوب میں "قریوت” کےمقام پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں سیکڑوں افراد نے نسلی دیوار کی تعمیر اور فلسطینیوں کی اراضی غصب کر کے ان پریہودی کالونیوں کی تعمیر کےخلاف احتجاجی جلوس نکالے۔ اسرائیلی فوج نے نہتے شہریوں کو منتشر کرنے کے لیے ان پر روایتی طریقے سے وحشیانہ لاٹھی چارج کیا اوران پر اشک آورگیس کے شیلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں کئی غیرملکی سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے رضاکاروں سمیت درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل کے مغربی کنارے کے کئی شہروں میں یہودی کالونیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک مضبوط دیوار کی تعمیر جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس دیوار نے فلسطینی آبادیوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے اور مغربی کنارے کا نقشہ ہی تبدیل ہو چکا ہے۔ فلسطینی شہری گذشتہ تین سال سے اسرائیل کی اس ننگی جارحیت اور نسل پرستی کےخلاف ہر جمعہ کےروز احتجاجی جلوس نکال اپنے جائز حقوق کے لیے مطالبہ کرتے ہیں اور اسرائیلی فوج ہر بار انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔

