مصری وزارت توانائی و قدرتی وسائل کے ذمہ دار ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کی پٹی میں توانائی کے بحران پر قابو پانے اورمحاصرہ زدہ شہر کو اضافی بجلی فراہم کرنے کے سلسلے میں فلسطینی حکام اور مصرکے درمیان مذاکرات آئندہ ہفتے ہوں گے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے غزہ کی پٹی میں حکام نے مصری حکومت سے رابطہ کیا تھا۔ مصری حکومت نے یقین دلایا ہے کہ وہ توانائی کے بحران پر قابو پانے میں ہرممکن مدد فراہم کرے گا۔
قطری میڈیا کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی الیکٹری سٹی سپلائی کمپنی کے سربراہ کنعان عبید ایک سینیئر وفد کے ہمراہ جلد قاہرہ کا دورہ کریں گے جہاں وہ قاہرہ حکام سے غزہ میں توانائی کے بحران پربات چیت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ میں الیکٹرک سپلائی محکمے کے حکام نے گذشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ غزہ میں ایندھن کی قلت کے باعث ستائیس گھنٹے کے لیے بجلی کا بریک ڈاؤن ہو سکتا ہے،کیونکہ اسرائیل کی جانب سے آنے والے ایندھن کی سپلائی بند ہونے کے بعد اسٹاک شدہ ایندھن بھی ختم ہو چکا ہے۔
فلسطینی محکمہ توانائی نے دیگرعرب ممالک سے بھی اپیل کہ وہ غزہ کی پٹی میں توانائی کے بحران کے حل میں ان کی مدد کریں۔
ذرائع نے بتایا کہ مصر کی جانب سے غزہ کی پٹی کو فراہم کردہ ایندھن ختم ہو چکا ہے اس کے علاوہ براہ راست فراہم کی جانے والی بجلی کی مقدار بھی اہل غزہ کی ضرورت پوری کرنے سے قاصر ہے جس کے بعد شہر میں امکان ہے کہ آئندہ چند ایام میں چوبیس میں سے اکیس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ شروع ہو جائے۔

