فلسطین کے ممتاز عالم دین اور فلسطین کی سپریم اسلام کونسل کے چیئرمین ڈاکٹرعکرمہ صبری نےانتہا پسند یہودیوں کی جانب سے غزہ کی پٹی اور مصری شہر العریش پر قبضے کا نیا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی اور العریش پر قبضے کا صہیونی خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق شیخ عکرمہ صبری نے جمعہ کو اپنے ایک خصوصی پیغام میں کہا کہ صہیونیوں کا "عظیم تراسرائیل” کا خواب اب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ اسرائیل کا یہ دعویٰ کہ وہ نیل سے فرات تک اپنی ریاست کو وسعت دے گا یہ ایک محض ایک خام خیالی ہے۔ عرب ممالک میں آنے والے انقلابات کے بعداب اسرائیل کے لیے خود کو مزید وسعت دینے کا موقع نہیں رہا۔ اب حالات بدل چکے ہیں۔ اسرائیل کو فلسطین کے مقبوضہ علاقوں سےاب قبضہ چھوڑنا ہوگا۔
انہوں نےانتہا پسند یہودی ربیوں کی جانب سے العریش اور غزہ کی پٹی پرقبضے کا مطالبہ کرکےاپنی توسیع پسند ذہنیت کا ثبوت پیش کر دیا ہے لیکن فلسطینی اور مصری عوام اباسرائیلیوں کو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کاموقع فراہم نہیں کریں گے۔
شیخ صبری کا کہنا تھا کہ فلسطین میں حق صرف مسلمانوں اور فلسطینیوں کا ہے۔ فلسطین کا چپہ چپہ صرف فلسطینی عوام کی ملکیت ہے۔ یہودیوں کا اس پرکوئی حق نہیں۔ باغی یہودیوں کی جانب سے فلسطینیوں کے قتل عام کا سلسلہ جاری ہے۔ فلسطینیوں کی جان ومال اور املاک اورعزتیں غیرمحفوظ ہیں۔ یہودی فوج کے ان انتہا پسند مظالم کی بنیادی وجہ دہشت گرد خیالات رکھنے والے یہودی ربی ہیں جو فوج اور حکومت کو فلسطینیوں کی جان ومال پر دست درازی کر رہے ہیں۔
شیخ عکرمہ صبری نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسلام اور عیسائیت کے خلاف یہودی غنڈہ گردوں کی وال چاکنگ کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسند یہودی فلسطین میں دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔

